سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب: دع ما يريبك إلى ما لا يريبك :
شک و شبہ کی چیز کو چھوڑ دو
حدیث نمبر: 2569
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ الزُّبَيْرِ أَبِي عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِكْرَزٍ الْفِهْرِيِّ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيِّ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِوَابِصَةَ:"جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ؟". قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: فَجَمَعَ أَصَابِعَهُ فَضَرَبَ بِهَا صَدْرَهُ، وَقَالَ: "اسْتَفْتِ نَفْسَكَ. اسْتَفْتِ قَلْبَكَ يَا وَابِصَةُ ثَلَاثًا الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ".
سیدنا وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وابصہ سے فرمایا: ”تم نیکی و بدی کی بابت پوچھنے آئے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں جمع کر کے (مٹھی باندھ کر) ان کے سینے پر ماری اور فرمایا: ”اپنے نفس اور اپنے دل سے پوچھو، نیکی وہ ہے جس پر نفس مطمئن ہو اور دل میں کوئی کھٹک نہ ہو، اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور دل میں وہ متردد ہو، گرچہ لوگ تمہیں (اس کے جواز کا) فتویٰ دے دیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2569]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لانقطاعه. الزبير أبو عبد السلام لم يسمع من أيوب، [مكتبه الشامله نمبر: 2575] »
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے لیکن حدیث بشواہد صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2553] ، [أحمد 228/4] ، [أبويعلی 1586] ، [مجمع الزوائد 824-825] ۔ مسلم شریف میں صرف اثم کی تعریف مذکور ہے «والإثم ما حاك ... الخ» ۔
اس روایت کی سند میں انقطاع ہے لیکن حدیث بشواہد صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2553] ، [أحمد 228/4] ، [أبويعلی 1586] ، [مجمع الزوائد 824-825] ۔ مسلم شریف میں صرف اثم کی تعریف مذکور ہے «والإثم ما حاك ... الخ» ۔
وضاحت: (تشریح حدیث 2568)
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ نیکی وہ ہے جس پر دل مطمئن ہو، اور کسی کا ڈر یا خوف اس کے کرنے میں نہ ہو، اسی طرح گناه و برائی یہ ہے کہ اس کے کرنے میں دل میں کھٹک پیدا ہو۔
یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ انسانی فطرت اگر برے ماحول اور صحبتِ بد کی وجہ سے مسخ نہ ہوگئی ہو تو انسان کی صحیح بات کی طرف رہنمائی کرتی اور برائیوں سے روکتی ہے۔
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور نبیٔ صادق ہونے کی دلیل ہے کہ سوال سے پہلے ہی سمجھ لیا کہ کیا پوچھنا چاہتے ہیں، نیز یہ کہ انسان کا دل سب سے بڑا مفتی ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو ایمان کے نور سے منور رکھے تاکہ وہ اس کی صحیح رہنمائی کرتا رہے۔
اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ نیکی وہ ہے جس پر دل مطمئن ہو، اور کسی کا ڈر یا خوف اس کے کرنے میں نہ ہو، اسی طرح گناه و برائی یہ ہے کہ اس کے کرنے میں دل میں کھٹک پیدا ہو۔
یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ انسانی فطرت اگر برے ماحول اور صحبتِ بد کی وجہ سے مسخ نہ ہوگئی ہو تو انسان کی صحیح بات کی طرف رہنمائی کرتی اور برائیوں سے روکتی ہے۔
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور نبیٔ صادق ہونے کی دلیل ہے کہ سوال سے پہلے ہی سمجھ لیا کہ کیا پوچھنا چاہتے ہیں، نیز یہ کہ انسان کا دل سب سے بڑا مفتی ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے دل کو ایمان کے نور سے منور رکھے تاکہ وہ اس کی صحیح رہنمائی کرتا رہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥وابصة بن معبد الأسدي، أبو سالم، أبو الشعثاء، أبو سعيد | صحابي | |
👤←👥أيوب بن عبد الله القرشي أيوب بن عبد الله القرشي ← وابصة بن معبد الأسدي | مجهول الحال | |
👤←👥الزبير بن جواتشير البصري، أبو عبد السلام الزبير بن جواتشير البصري ← أيوب بن عبد الله القرشي | مقبول | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← الزبير بن جواتشير البصري | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب سليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة إمام حافظ |
أيوب بن عبد الله القرشي ← وابصة بن معبد الأسدي