سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. باب العمل بالعلم وحسن النية فيه:
علم کے ساتھ عمل اور اس میں حسن نیت کا بیان
حدیث نمبر: 258
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صُهَيْبٍ، أَنَّ الْمُهَاصِرَ بْنَ حَبِيبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: "إِنِّي لَسْتُ كُلَّ كَلَامِ الْحَكِيمِ أَتَقَبَّلُ، وَلَكِنِّي أَتَقَبَّلُ هَمَّهُ وَهَوَاهُ، فَإِنْ كَانَ هَمُّهُ وَهَوَاهُ فِي طَاعَتِي، جَعَلْتُ صَمْتَهُ حَمْدًا لِي وَوَقَارًا، وَإِنْ لَمْ يَتَكَلَّمْ".
مہاجر بن حبیب نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”میں ہر دانا کے کلام کو قبول نہیں کر لیتا ہوں، بلکہ اس کے ارادے اور خواہش کو قبول کرتا ہوں، اگر اس کے ارادے و خواہش میری اطاعت میں ہوتے ہیں تو میں اس کی خاموشی کو بھی حمد و ثنا اور وقار بنا دیتا ہوں چاہے وہ چپ ہی رہے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 258]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف صدقة بن عبد الله ضعيف والحديث مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 258] »
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اور امام دارمی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا۔ بعض نسخ میں مہاصر (بالصاد) بن ابی حبیب ہے۔
اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اور امام دارمی رحمہ اللہ کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا۔ بعض نسخ میں مہاصر (بالصاد) بن ابی حبیب ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 257)
اس روایت کی سند گرچہ ضعیف ہے لیکن سطرِ اوّل کا معنی صحیح ہے، جیسا کہ آیتِ شریفہ میں ہے: «﴿لَنْ يَنَالَ اللّٰهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ﴾ [الحج: 37] » (ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ کو نہ تمہاری قربانیوں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، بلکہ اس کو تو تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔
“) نیز صحیح حدیث میں ہے: «إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَجْسَامِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ، وَأَعْمَالِكُمْ» ترجمہ: ”بیشک الله تعالیٰ نہ تمہاری صورتوں کی طرف دیکھتا ہے نہ تمہارے جسموں کی طرف دیکھتا ہے۔
ہاں وہ تمہارے دل اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
“ [مسلم: 2564] ، [ابن ماجه 4143] اور آخری سطر ”اس کی خامشی کو حمد و وقار بنا دیتا ہوں“ اس کا مرفوع ہونا محل نظر ہے۔
اس روایت کی سند گرچہ ضعیف ہے لیکن سطرِ اوّل کا معنی صحیح ہے، جیسا کہ آیتِ شریفہ میں ہے: «﴿لَنْ يَنَالَ اللّٰهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ﴾ [الحج: 37] » (ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ کو نہ تمہاری قربانیوں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون، بلکہ اس کو تو تمہارے دل کی پرہیزگاری پہنچتی ہے۔
“) نیز صحیح حدیث میں ہے: «إِنَّ اللّٰهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَلَا إِلَى أَجْسَامِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ، وَأَعْمَالِكُمْ» ترجمہ: ”بیشک الله تعالیٰ نہ تمہاری صورتوں کی طرف دیکھتا ہے نہ تمہارے جسموں کی طرف دیکھتا ہے۔
ہاں وہ تمہارے دل اور اعمال کو دیکھتا ہے۔
“ [مسلم: 2564] ، [ابن ماجه 4143] اور آخری سطر ”اس کی خامشی کو حمد و وقار بنا دیتا ہوں“ اس کا مرفوع ہونا محل نظر ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥المهاصر بن حبيب الزبيدي، أبو ضمرة | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥صدقة بن عبد الله السمين، أبو محمد، أبو معاوية صدقة بن عبد الله السمين ← المهاصر بن حبيب الزبيدي | منكر الحديث | |
👤←👥بقية بن الوليد الكلاعي، أبو يحمد بقية بن الوليد الكلاعي ← صدقة بن عبد الله السمين | صدوق كثير التدليس عن الضعفاء | |
👤←👥محمد بن المبارك القرشي، أبو عبد الله محمد بن المبارك القرشي ← بقية بن الوليد الكلاعي | ثقة |
صدقة بن عبد الله السمين ← المهاصر بن حبيب الزبيدي