🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
24. باب فى العرايا:
بیع عرایا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2594
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: "رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِالتَّمْرِ وَالرُّطَبِ، وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ".
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی تر یا خشک کھجور کے بدلے اجازت دی تھی اور اس کے سوا کسی (صورت) کی اجازت نہیں دی تھی۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2594]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2600] »
اس روایت کی سند قوی ہے اور حدیث صحیح متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2184] ، [مسلم 1539] ، [ترمذي 1300] ، [نسائي 4546] ، [ابن ماجه 2268] ، [أبويعلی 5798] ، [ابن حبان 4981]
وضاحت: (تشریح حدیث 2593)
عرايا عریہ کی جمع ہے، اور یہ ایسی بیع ہے کہ کوئی آدمی اپنے باغ میں سے دو تین درخت کسی مسکین کو دیوے، پھر اس کا باغ میں بار بار آنا مناسب خیال نہ کرے، ان درختوں کا میوه خشک میوے کے بدلے اس سے خرید لے، اور ضروری ہے کہ یہ میوه پانچ وسق سے کم ہو۔
(وحیدی)۔
مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: یاد رہے کہ اہلِ عرب قحط کے دنوں میں اور خشک سالی کے ایام میں اپنے باغات میں سے فقیروں اور مسکینوں کے درختوں کو چھوڑ کر ان کے پھل صدقات کی صورت میں دیا کرتے تھے کہ فلاں درخت کی کھجوریں تمہاری ہیں، اس طرح عطیہ میں دی گئی کھجور کو عریہ کہتے ہیں، اور ان کھجور کے درختوں کا پھل کھانے کے لئے مساکین ان باغات میں جایا کرتے تھے جس سے مالکِ باغ کو تکلیف ہوئی تھی، اور یہ بھی ہوتا کہ اپنی محتاجی و غریبی کی وجہ سے مساکین ان کے پکنے کا انتظار نہ کر سکتے تھے تو اپنے حصے کے پھل وہ فروخت کر دیتے تھے، اور پھل ابھی درخت ہی پر ہوتے اور اس کے بدلے خشک کھجور (یعنی تر کے بدلے خشک) لے لیتے اور مالکِ باغات کو روز مرہ کی آمد و رفت کی تکلیف سے نجات مل جاتی۔
یہ بعینہ بیع مزابنہ ہی کی صورت ہے۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ کو حرام قرار دیا تو ضرورت اور حاجت رفع کرنے کی غرض سے بیع عرایا کی اجازت مرحمت فرما دی اس شرط پر کہ کھجور کے اندر درختوں پر پھل کا تخمینہ لگا کر ان کے بدلے ناپ کر اتنی کھجور دے دیں جو پانچ وسق سے کم ہو۔
اس کی اور بھی صورتیں ہیں جو شروح کی کتابوں میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
بہرحال اس حدیث سے اسلام کی غربا پروری، مساکین کی دل بستگی اور سب کے ساتھ ہمدردی کی بہترین مثال سامنے آئی، احناف نے بیع عریہ کو مزابنہ پر قیاس کر کے اس کی حلت و جواز سے انکار کیا ہے جو صحیح احادیث کا انکار ہے۔
کتبِ احادیث میں اکثر جگہ جہاں مزابنہ کی حرمت کا ذکر ہے اس سے ملے ہوئے ابواب میں عرایا کی حلت کا بھی ذکر موجود ہے، اس لئے عریہ ایک خاص مقدار میں غریبوں، مسکینوں کے لئے جائز ہے۔
واللہ اعلم۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عمر العدوي ← زيد بن ثابت الأنصاري
صحابي
👤←👥سالم بن عبد الله العدوي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عمر
Newسالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← سالم بن عبد الله العدوي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة مأمون
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة