🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
37. باب فى بيع المدبر:
مدبر غلام کی بیع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2609
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَّا عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ. قَالَ: "فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَهُ". قَالَ جَابِرٌ: وَإِنَّمَا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ. قِيلَ لعَبْدِ اللَّهِ: تَقُولُ بِهِ؟. قَالَ: قَوْمُ يَقُولُونَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہا: ہم میں سے ایک شخص نے اپنے غلام کو اپنے مرنے کے بعد آزاد کرنے کے لئے کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کو بلایا اور اسے فروخت کردیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ پہلے سال میں مرگیا۔
امام دارمی رحمہ اللہ سے کہا گیا: آپ غلام مدبر کی بیع کے قائل ہیں؟ انہوں نے کہا: علماء یہی کہتے ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2609]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2615] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 2141] ، [مسلم 997/59] ، [أبوداؤد 3957] ، [نسائي 2545] ، [أبويعلی 1825] ، [ابن حبان 3342] ، [الحميدي 1256]
وضاحت: (تشریح حدیث 2608)
«عَنْ دُبُرٍ» کا مطلب یہ ہے: اس غلام کی آزادی اپنی موت پر موقوف رکھی اور کہا: جس دن میں مروں تم آزاد ہو۔
لہٰذا غلام مدبر وہ ہے جس کو مالک کہہ دے کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ اور اہلِ حدیث کے یہاں اس کی بیع جائز ہے جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے، وہ شخص مر گیا تھا، اس کی کچھ جائیداد نہ تھی، صرف یہی غلام مدبر تھا اور وہ شخص قرضدار تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی مدبر غلام آٹھ سو درہم میں بیچ کر اس کا قرض ادا کر دیا۔
اکثر روایات میں ہے کہ اس شخص کی زندگی ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا قرض ادا کرنے کے لئے ان کے اس مدبر غلام کو نیلام فرمایا اور ان کے قرض خواہوں کو فارغ کر دیا تھا، اور یہ شخص سیدنا ابن الزبیر رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت کے آغاز میں فوت ہوا، اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ قرض کا معاملہ کتنا خطرناک ہے کہ اس کے لئے غلام مدبر کو بھی نیلام کیا جا سکتا ہے، حالانکہ وہ غلام اپنے مالک کے مرنے کے بعد آزاد ہو جاتا ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور دیگر علماء کے نزدیک مدبر کی بیع جائز نہیں۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥هاشم بن القاسم الليثي، أبو النضر
Newهاشم بن القاسم الليثي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت