سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
56. باب في: العارية مؤداة:
مانگی ہوئی چیز ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2632
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ".
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ پر واجب ہے کہ جو لے اسے واپس کر دے۔“ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2632]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 2638] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے، حسن کا لقاء بھی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3561] ، [ترمذي 1266] ، [ابن ماجه 2400] ، [طبراني 208/7، 2862] ، [المنتقی 1024، وغيرهم]
اس روایت کی سند ضعیف ہے، حسن کا لقاء بھی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3561] ، [ترمذي 1266] ، [ابن ماجه 2400] ، [طبراني 208/7، 2862] ، [المنتقی 1024، وغيرهم]
وضاحت: (تشریح حدیث 2631)
یہ حدیث گرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن معنی صحیح ہے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾ [النساء: ۵8] » ”الله تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ امانات کو ان کے مالک کے سپرد کرو۔
“ یعنی جب کسی سے امانت لو تو اسے ہو بہو ویسے ہی واپس کرو۔
امانت میں خیانت کبیرہ گناہ ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
اس باب سے مراد غالباً مؤلف رحمہ اللہ کا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ» کہ عاریتاً لی ہوئی چیز پھیر دی جائے۔
اس کو [ابن ماجه 2398] وغیرہ نے روایت کیا ہے لیکن اس میں ایک راوی متکلم فیہ ہے۔
یہ حدیث گرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن معنی صحیح ہے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾ [النساء: ۵8] » ”الله تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ امانات کو ان کے مالک کے سپرد کرو۔
“ یعنی جب کسی سے امانت لو تو اسے ہو بہو ویسے ہی واپس کرو۔
امانت میں خیانت کبیرہ گناہ ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
اس باب سے مراد غالباً مؤلف رحمہ اللہ کا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ» کہ عاریتاً لی ہوئی چیز پھیر دی جائے۔
اس کو [ابن ماجه 2398] وغیرہ نے روایت کیا ہے لیکن اس میں ایک راوی متکلم فیہ ہے۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 2632 in Urdu
الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري