🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
69. باب فى النهي عن بيع الماء:
پانی بیچنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2648
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ". وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: لَا نَدْرِي أَيَّ مَاءٍ. قَالَ: يَقُولُ: لَا أَدْرِي مَاءً جَارِيًا أَوِ الْمَاءَ الْمُسْتَقَى؟.
سیدنا ایاس بن عبد مزنی رضی اللہ عنہ نے کہا جو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے۔ پانی نہ بیچو کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے بیچنے سے منع فرمایا۔
عمرو بن دینار نے کہا: پتہ نہیں کون سا پانی بیچنے سے منع فرمایا۔ انہوں نے کہا: کہتے ہیں پتہ نہیں بہنے والے پانی سے یا پینے والے پانی سے منع فرمایا۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2648]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط البخاري، [مكتبه الشامله نمبر: 2654] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ ابوالمنہال کا نام عبدالرحمٰن بن مطعم ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 3478] ، [ترمذي 1271] ، [نسائي 4675] ، [ابن ماجه 2476] ، [ابن حبان 4952] ، [موارد الظمآن 1117] ، [الحميدي 936]
وضاحت: (تشریح حدیث 2647)
اس حدیث میں پانی مطلقاً بیچنے کی ممانعت آئی ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ پینے کا پانی بیچنا درست نہیں، کھیتی کے لئے سینچائی کا پانی یا کنویں سے بھر کر لے جانے والے مشک وغیرہ کا پانی بیچنا اور خریدنا درست ہے، اور کنویں یا حوض، چشمے کا پانی پینے یا جانوروں کے پلانے کے لئے بیچنا درست نہیں، بلکہ صاحبِ کنواں کو اجازت دینی چاہیے کہ لوگ پئیں اور جانوروں کو پلائیں، نیز بوتلوں میں پیک صاف کیا ہوا پانی بیچنے میں کوئی حرج نہیں کیونک فلٹر کرنے، بوتلوں میں بھرنے، اور سپلائی میں اخراجات ہوتے ہیں، اس کے عوض اس پر پیسہ لینا درست ہے۔
اس حدیث میں نہی سے مراد بعض علماء کے نزدیک تنزیہی ہے، اور بعض نے نہی تحریمی کہا ہے، یعنی ہر حال میں پانی بیچنا حرام ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥إياس بن عبد المزني، أبو عوفصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن مطعم البناني، أبو المنهال
Newعبد الرحمن بن مطعم البناني ← إياس بن عبد المزني
ثقة
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد
Newعمرو بن دينار الجمحي ← عبد الرحمن بن مطعم البناني
ثقة ثبت
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي
ثقة حافظ حجة
👤←👥محمد بن يوسف الفريابي، أبو عبد الله
Newمحمد بن يوسف الفريابي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة