🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. باب فى حريم البئر:
کنویں کے ارد گرد احاطے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2662
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "مَنِ احْتَفَرَ بِئْرًا، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَحْفِرَ حَوْلَهُ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا عَطَنًا لِمَاشِيَتِهِ".
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی کنواں کھودے تو کسی اور کے لئے جائز نہیں کہ چالیس ہاتھ اردگرد تک کنواں کھودے اپنے جانوروں کو پانی پلانے اور بٹھانے کے لئے (یعنی: چالیس ہاتھ بھر اردگرد کا احاطہ اس کنواں کھودنے والے کے لئے چھوڑ دیا جائے)۔ [سنن دارمي/من كتاب البيوع/حدیث: 2662]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده فيه علتان: ضعف إسماعيل بن مسلم وعنعنة الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 2668] »
اس روایت کی سند میں اسماعیل بن مسلم ضعیف ہیں اور حسن کا عنعنہ ہے لیکن اس کا شاہد موجود ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: [ابن ماجه 2486] ، [مجمع الزوائد 6705] ، [نصب الراية 291/4] ، [تلخيص الحبير 63/3] ، [البيهقي 155/6] ، [المستدرك 97/4]
وضاحت: (تشریح حدیث 2661)
باب کے عنوان حریم البیر سے مراد یہ ہے کہ کوئی کنواں کھودے تو جانور بٹھلانے اور پانی پلانے کے لئے کتنی دور تک کا احاطہ چھوڑنا ہوگا۔
مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہوا کہ ارد گرد چالیس چالیس ہاتھ چھوڑنا ہوگا۔
بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ اس وقت ہے جب کنویں کی گہرائی چالیس ہاتھ ہو۔
علامہ وحیدالزماں شرح ابن ماجہ میں لکھتے ہیں کہ بعض جاہل حنفیوں نے جن کو علمِ حدیث میں بالکل دخل نہیں ہے اس حدیث سے نکالا ہے دہ در دہ حوض نجس نہ ہوگا جب اس میں نجاست پڑ جائے، حالانکہ یہ مضمون بالکل حدیث سے معلوم نہیں ہوتا، اگر کوئی اس کو دھینگا مشتی سے نکالے بھی تو لازم آتا ہے کہ حنفیہ چہل در چہل حوض کی شرط کریں، نہ کہ دہ در دہ کی، کیونکہ اس حدیث میں ہر طرف چالیس ہاتھ بیان ہوئے ہیں۔
دہ در دہ کا مطلب 10/10 ہاتھ ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مغفل المزني، أبو سعيد، أبو عبد الرحمن، أبو زيادصحابي
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد
Newالحسن البصري ← عبد الله بن مغفل المزني
ثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥إسماعيل بن مسلم المكي، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن مسلم المكي ← الحسن البصري
منكر الحديث
👤←👥عرعرة بن البرند الناجي، أبو عمرو
Newعرعرة بن البرند الناجي ← إسماعيل بن مسلم المكي
صدوق يهم
👤←👥إسحاق بن راهويه المروزي، أبو يعقوب
Newإسحاق بن راهويه المروزي ← عرعرة بن البرند الناجي
ثقة حافظ إمام