یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. باب ما يقول إذا قفل من السفر:
مسافر جب سفر سے لوٹے تو کیا کہے؟
حدیث نمبر: 2717
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَارِقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَجَعَ مِنْ سَفَرِهِ، قَالَ: "آيِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَائِبُونَ عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے سفر سے واپس لوٹتے تو یہ دعا کرتے تھے: ” «آئِبُوْنَ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ ...... حَامِدُوْنِ» یعنی ہم واپس لوٹنے والے اگر اللہ نے چاہا تو، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2717]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2724] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1797] ، [مسلم 1344] ، [أبوداؤد 2770] ، [ترمذي 950] ، [أبويعلی 5513] ، [ابن حبان 2707] ، [الحميدي 657]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 1797] ، [مسلم 1344] ، [أبوداؤد 2770] ، [ترمذي 950] ، [أبويعلی 5513] ، [ابن حبان 2707] ، [الحميدي 657]
وضاحت: (تشریح احادیث 2714 سے 2717)
بخاری شریف میں پوری دعا اس طرح ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللّٰهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے اور حمد اسی کے لئے ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، ہم واپس ہو رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے، اپنے رب کو سجدہ کرتے ہوئے اور اس کی حمد کرتے ہوئے، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور سارے لشکر کو تنہا شکست دے دی۔
(یہ فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے)۔
بخاری شریف میں پوری دعا اس طرح ہے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللّٰهُ وَعْدَهُ وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، ملک اسی کا ہے اور حمد اسی کے لئے ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، ہم واپس ہو رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے، اپنے رب کو سجدہ کرتے ہوئے اور اس کی حمد کرتے ہوئے، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور سارے لشکر کو تنہا شکست دے دی۔
(یہ فتح مکہ کی طرف اشارہ ہے)۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥علي بن عبد الله الأزدي، أبو عبد الله علي بن عبد الله الأزدي ← عبد الله بن عمر العدوي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← علي بن عبد الله الأزدي | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← محمد بن مسلم القرشي | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥يحيى بن حسان البكري، أبو زكريا يحيى بن حسان البكري ← حماد بن سلمة البصري | ثقة إمام |
Sunan Darmi Hadith 2717 in Urdu
علي بن عبد الله الأزدي ← عبد الله بن عمر العدوي