🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. باب: تسموا باسمي ولا تكنوا بكنيتي :
میرے نام پر نام رکھو میری کنیت پر کنیت نہ رکھو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2728
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَسَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے نام پر نام رکھو، میری کنیت پر کنیت نہ رکھو۔ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2728]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح والحديث متفق عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 2735] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 110، 3539] ، [مسلم 2134] ، [أبوداؤد 4965] ، [ابن ماجه 3735] ، [أبويعلی 6102] ، [ابن حبان 5812] ، [الحميدي 1178]
وضاحت: (تشریح حدیث 2727)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت ابوالقاسم تھی اور نام محمد و احمد تھا۔
اس حدیث میں کنیت ابوالقاسم رکھنے کی ممانعت ہے جس میں کئی حکمتیں ہیں: ایک یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نام اور کنیت رکھنے میں پیغاماتِ الٰہیہ کے خلط ملط ہونے، اور جو حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہ ہو اس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے کا اندیشہ و امکان تھا۔
اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا۔
بعض علماء کے نزدیک یہ ممانعت اب تک برقرار ہے، بعض علماء نے کہا کہ اب ایسا اندیشہ نہیں اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور کنیت ایک ساتھ بھی رکھی جاسکتی ہے، اور بعض نے کہا کہ کنیت اور نام جمع کرنا منع ہے، دوسرا قول راجح ہے۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر
Newمحمد بن سيرين الأنصاري ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← محمد بن سيرين الأنصاري
ثقة حافظ
👤←👥سعيد بن عامر الضبعي، أبو محمد
Newسعيد بن عامر الضبعي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة