سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
60. باب ما يكره من الأسماء:
وہ نام جن کا رکھنا مکروہ ہے
حدیث نمبر: 2731
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ الرُّكَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"نَهَى أَنْ نُسَمِّيَ أَرِقَّاءَنَا أَرْبَعَةَ أَسْمَاءٍ: أَفْلَحُ، وَنَافِعٌ، وَرَبَاحٌ، وَيَسَارٌ".
سیدنا سمره رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنے غلاموں کے یہ چار نام رکھنے سے منع فرمایا: ”افلح، نافع، رباح، اورنجاح۔“ [سنن دارمي/من كتاب الاستئذان/حدیث: 2731]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2738] »
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2136] ، [أبوداؤد 4958] ، [ترمذي 2836] ، [ابن ماجه 3729] ، [ابن حبان 5837]
اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2136] ، [أبوداؤد 4958] ، [ترمذي 2836] ، [ابن ماجه 3729] ، [ابن حبان 5837]
وضاحت: (تشریح حدیث 2730)
«أفلح» اور «نجاح» کے معنی کامیابی، «نافع» اور «رباح» کے معانی فائدہ مند کے ہیں، گو یہ معانی اچھے ہیں لیکن اس سے بدفالی کا پہلو نکلتا ہے شاید اس لئے کراہت ظاہر کی گئی، مثلاً کوئی پوچھے: یہاں رباح یا نجاح ہے؟ تو جواب یہ دیا جائے کہ نہیں ہے، تو اس سے بدفالی مراد ہو سکتی ہے۔
(والله اعلم)۔
«أفلح» اور «نجاح» کے معنی کامیابی، «نافع» اور «رباح» کے معانی فائدہ مند کے ہیں، گو یہ معانی اچھے ہیں لیکن اس سے بدفالی کا پہلو نکلتا ہے شاید اس لئے کراہت ظاہر کی گئی، مثلاً کوئی پوچھے: یہاں رباح یا نجاح ہے؟ تو جواب یہ دیا جائے کہ نہیں ہے، تو اس سے بدفالی مراد ہو سکتی ہے۔
(والله اعلم)۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 2731 in Urdu
الربيع بن عميلة الفزاري ← سمرة بن جندب الفزاري