سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب فى أكل الطيب:
پاکیزہ کمائی کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 2752
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"يَا أَيُّهَا النَّاسُ , إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا الطَّيِّبَ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ , قَالَ: يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51، وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ سورة البقرة آية 172. قَالَ: ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ! يَا رَبِّ! وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ؟".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! الله تعالیٰ پاک ہے اور پاک مال کو ہی قبول کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو بھی وہی حکم دیا ہے جو مرسلین کو دیا تھا، الله تعالیٰ نے فرمایا: اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھے عمل کرو، میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں (المومنون 51/23)، نیز فرمایا: اے مومنو! کھاؤ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو دی ہیں، اور الله کا شکر ادا کرو اگر تم خاص اسی کی عبادت کرتے ہو (البقره: 172/2)۔“ راوی نے کہا: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے آدمی کا ذکر کیا ”جو لمبے لمبے سفر کرتا ہے بکھرے بال گرد و غبار سے بھرا ہوا پھر آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے اور کہتا ہے: اے رب، اے رب، حالانکہ اس کا کھانا حرام، اس کا لباس حرام، اس کا پینا حرام، اور حرام غذا ہی اس کو دی جاتی ہے، پھر کیسے اس کی دعا قبول ہوگی؟“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2752]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط مسلم، [مكتبه الشامله نمبر: 2759] »
اس حدیث کی سند صحیح على شرط مسلم ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1015] ، [ترمذي 2992] ، [عبدالرزاق 8839]
اس حدیث کی سند صحیح على شرط مسلم ہے۔ دیکھئے: [مسلم 1015] ، [ترمذي 2992] ، [عبدالرزاق 8839]
وضاحت: (تشریح حدیث 2751)
یہ حدیث ایمان و اسلام کی اساسیات میں سے ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو کھانا، کپڑا، گھر، مکان سب حلال کمائی سے کرنا چاہیے ورنہ اس کا عمل قابلِ قبول نہ ہوگا۔
اس حدیث میں الله تعالیٰ کی صفات ہیں کہ وہ ہر عیب سے اور برائی سے پاک ہے، اور وہ عرش پر ہے، اور اس کو نیک و بد سب جانتے ہیں، اور اسی کی طرف دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہیں، اور وہی دینے والا، دعا کو قبول کرنے والا ہے۔
یہ حدیث ایمان و اسلام کی اساسیات میں سے ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کو کھانا، کپڑا، گھر، مکان سب حلال کمائی سے کرنا چاہیے ورنہ اس کا عمل قابلِ قبول نہ ہوگا۔
اس حدیث میں الله تعالیٰ کی صفات ہیں کہ وہ ہر عیب سے اور برائی سے پاک ہے، اور وہ عرش پر ہے، اور اس کو نیک و بد سب جانتے ہیں، اور اسی کی طرف دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہیں، اور وہی دینے والا، دعا کو قبول کرنے والا ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سلمان مولى عزة، أبو حازم سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥عدي بن ثابت الأنصاري عدي بن ثابت الأنصاري ← سلمان مولى عزة | ثقة رمي بالتشيع | |
👤←👥الفضيل بن مرزوق الأغر، أبو عبد الرحمن الفضيل بن مرزوق الأغر ← عدي بن ثابت الأنصاري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم الفضل بن دكين الملائي ← الفضيل بن مرزوق الأغر | ثقة ثبت |
سلمان مولى عزة ← أبو هريرة الدوسي