سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. باب فى قول النبى صلى الله عليه وسلم: أنتم آخر الأمم :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”تم آخری امت ہو“
حدیث نمبر: 2795
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "إِنَّكُمْ وَفَّيْتُمْ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ".
بہز بن حکیم نے اپنے باپ سے، انہوں نے دادا سے روایت کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”تم نے ستر امتوں کو پورا کیا، تم سب سے آخری امت ہو اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم و عزت والے ہو۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2795]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 2802] »
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3004] ، [ابن ماجه 4288] ، [أحمد 3/5، 5] ، [عبد بن حميد 409]
اس حدیث کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 3004] ، [ابن ماجه 4288] ، [أحمد 3/5، 5] ، [عبد بن حميد 409]
وضاحت: (تشریح حدیث 2794)
اس حدیث میں امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جو گرچہ سب سے آخر میں ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پیش پیش ہوں گے، اللہ کے محبوب اور معزز و مکرم ہوں گے۔
یہود و نصاریٰ کا دعویٰ تھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے حبیب ہیں، جس کا انکار قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے سورهٔ مائده (18) میں بڑے ہی محققانہ اور بلیغ انداز میں کیا ہے۔
ترجمہ: ”یہود و نصاریٰ کہتے ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، آپ کہہ دیجئے پھر الله تعالیٰ تمہیں تمہارے گناہوں کے باعث کیوں عذاب دیتا ہے، نہیں بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں سے ایک انسان ہو، وہ جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہے عذاب دیتا ہے، زمین و آسمان اور اس کے درمیان کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
“
اس حدیث میں امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت بیان کی گئی ہے، جو گرچہ سب سے آخر میں ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے پیش پیش ہوں گے، اللہ کے محبوب اور معزز و مکرم ہوں گے۔
یہود و نصاریٰ کا دعویٰ تھا کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے حبیب ہیں، جس کا انکار قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے سورهٔ مائده (18) میں بڑے ہی محققانہ اور بلیغ انداز میں کیا ہے۔
ترجمہ: ”یہود و نصاریٰ کہتے ہیں ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں، آپ کہہ دیجئے پھر الله تعالیٰ تمہیں تمہارے گناہوں کے باعث کیوں عذاب دیتا ہے، نہیں بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں سے ایک انسان ہو، وہ جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہے عذاب دیتا ہے، زمین و آسمان اور اس کے درمیان کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
“
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥معاوية بن حيدة القشيري، أبو حكيم | صحابي | |
👤←👥حكيم بن معاوية البهزي حكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥بهز بن حكيم القشيري، أبو عبد الملك بهز بن حكيم القشيري ← حكيم بن معاوية البهزي | ثقة | |
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن النضر بن شميل المازني ← بهز بن حكيم القشيري | ثقة ثبت |
حكيم بن معاوية البهزي ← معاوية بن حيدة القشيري