سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
57. باب أجر المريض:
بیمار کے اجر و ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 2806
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ لَتُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا، فَقَالَ: "إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ"، قَالَ: قُلْتُ: ذَلِكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟، قَالَ:"أَجَلْ، وَمَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيبُهُ أَذًى، أَوْ مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ، إِلَّا حُطَّ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم شدید بخار میں مبتلا تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر رکھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو شدید بخار کی تکلیف ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تنہا ایسا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمی کو ہوتا ہے۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے عرض کیا: یہ اس لئے کہ آپ کا اجر بھی دوگنا ہے؟ فرمایا: ”ہاں (ایسا ہی ہے) اور کسی بھی مسلمان کو کسی مرض کی یا اور کوئی تکلیف ہوتی ہے تو اس کے گناہ ایسے ہی جھڑ جاتے ہیں جیسے درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔“ [سنن دارمي/من كتاب الرقاق/حدیث: 2806]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2813] »
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5647] ، [مسلم 2571] ، [أبويعلی 5164] ، [ابن حبان 2937] ، [موارد الظمآن 701]
اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 5647] ، [مسلم 2571] ، [أبويعلی 5164] ، [ابن حبان 2937] ، [موارد الظمآن 701]
وضاحت: (تشریح حدیث 2805)
اس حدیث میں تمام مؤمنین کے لیے تسلی اور اطمینان کی تعلیم اور بشارت ہے کہ جب سید الانبیاء بھی شدت میں مبتلا ہیں تو کسی بھی مؤمن کو مصیبت و پریشانی آ سکتی ہے، اس پر انہیں صبر کرنا چاہیے، کیونکہ جتنا قربِ الٰہی زیادہ ہوگا تکالیف و مصائب زیادہ آئیں گے، اور نیک لوگوں کے درجات بلند ہوتے رہیں گے، اور گناہ معاف ہوتے رہیں گے، اور بیمار کو بیماری کی حالت میں بھی جو وہ اچھے کام صحت کی حالت میں کیا کرتا تھا ان کا ثواب ملتا رہے گا۔
مزید تفصیل رقم (2818) میں آ رہی ہے۔
اس حدیث میں تمام مؤمنین کے لیے تسلی اور اطمینان کی تعلیم اور بشارت ہے کہ جب سید الانبیاء بھی شدت میں مبتلا ہیں تو کسی بھی مؤمن کو مصیبت و پریشانی آ سکتی ہے، اس پر انہیں صبر کرنا چاہیے، کیونکہ جتنا قربِ الٰہی زیادہ ہوگا تکالیف و مصائب زیادہ آئیں گے، اور نیک لوگوں کے درجات بلند ہوتے رہیں گے، اور گناہ معاف ہوتے رہیں گے، اور بیمار کو بیماری کی حالت میں بھی جو وہ اچھے کام صحت کی حالت میں کیا کرتا تھا ان کا ثواب ملتا رہے گا۔
مزید تفصیل رقم (2818) میں آ رہی ہے۔
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥الحارث بن سويد التيمي، أبو عائشة الحارث بن سويد التيمي ← عبد الله بن مسعود | ثقة ثبت | |
👤←👥إبراهيم بن يزيد التيمي، أبو أسماء إبراهيم بن يزيد التيمي ← الحارث بن سويد التيمي | ثقة يرسل | |
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد سليمان بن مهران الأعمش ← إبراهيم بن يزيد التيمي | ثقة حافظ | |
👤←👥يعلى بن عبيد الطناقسي، أبو يوسف يعلى بن عبيد الطناقسي ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة إلا في حديثه عن الثوري ففيه لين |
الحارث بن سويد التيمي ← عبد الله بن مسعود