سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب من ادعى إلى غير أبيه:
حقیقی باپ کے بجائے کسی غیر کو باپ بنانا
حدیث نمبر: 2897
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ السَّلُولِيُّ، عَنْ جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ السَّرِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ، فَجِئْتُ وَقَدْ قُبِض، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ فِي مَقَامِهِ، فَأَطَالَ الثَّنَاءَ وَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "كُفْرٌ بِاللَّهِ انْتِفَاءٌ مِنْ نَسَبٍ وَإِنْ دَقَّ، وَادِّعَاءُ نَسَبٍ لَا يُعْرَفُ".
قیس بن ابی حازم نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لوں، لیکن جب (مدینہ) پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم مقام (خلیفہ) تھے، پس انہوں نے بہت مدح سرائی کی اور بہت روئے اور کہا: میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”معمولی سے نسب کا بھی انکار کرنا اللہ کے ساتھ کفر ہے، اور غیر معروف (نا معلوم) نسب کا دعویٰ کرنا بھی اللہ کے ساتھ کفر ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده تالف، [مكتبه الشامله نمبر: 2905] »
اس روایت کی سند بہت ضعیف ہے، گرچہ طبرانی نے [الأوسط 2839] میں اور ہیثمی نے [مجمع الزوائد 352] میں اسے ذکر کیا ہے۔
اس روایت کی سند بہت ضعیف ہے، گرچہ طبرانی نے [الأوسط 2839] میں اور ہیثمی نے [مجمع الزوائد 352] میں اسے ذکر کیا ہے۔
الرواة الحديث:
قيس بن أبي حازم البجلي ← أبو بكر الصديق