🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب الأَكْدَرِيَّةِ: زَوْجٌ وَأُخْتٌ لأَبٍ وَأُمٍّ وَجَدٌّ وَأُمٌّ:
اکدریہ: شوہر، حقیقی بہن، دادا اور ماں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2964
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ: أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ فِي أُخْتٍ، وَأُمٍّ، ٍّوَزَوْجٍ، وَجَدٍّ، قَالَ: "جَعَلَهَا مِنْ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ: لِلْأُمِّ سِتَّةٌ، وَلِلزَّوْجِ تِسْعَةٌ، وَلِلْجَدِّ ثَمَانِيَةٌ، وَلِلْأُخْتِ أَرْبَعَةٌ.
قتادہ رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بہن، ماں، شوہر اور دادا کی میراث 27 سے تقسیم کی اور ماں کو چھ، شوہر کو نو، دادا کو آ ٹھ اور بہن کو چار سہم دیئے۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2964]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى قتادة، [مكتبه الشامله نمبر: 2973] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11289] ، [عبدالرزاق 19074] ، [ابن منصور 65]
وضاحت: (تشریح حدیث 2963)
یہ مسئلہ عدل کا ہے اور اکدریہ کے نام سے مشہور ہے، اور اس مسئلہ کو الگ طور سے اس لئے ذکر کیا جاتا ہے کہ اصولاً دادا کے ساتھ بہن صاحبِ فرض نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ عصبہ ہوتی ہے، مگر اس مسئلہ میں اسے صاحبہ فرض قرار دے کر نصف ترکہ دیا گیا ہے، پھر دادا اور بہن دونوں کے حصے ملا کر مقاسمہ کر لی گئی، اس صورت میں بہن نصف کے بجائے چھٹے حصہ کی اور دادا تہائی حصہ کا وارث ہوا، برعکس اس کے جو (مقاسمہ سے پہلے) فرض کیا گیا تھا، اس طرح بہن کا حصہ مکدر ہو کر رہ گیا یعنی زیادہ ہونے کے باوجود کم ملا، اکدریہ کی وجہ تسمیہ یہ بتائی جاتی ہے کہ اس حلِ مذکور نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا مسلک مکدر کر دیا، بعض نے کہا یہ مسئلہ پوچھنے والی عورت قبیلہ اکدریہ سے تعلق رکھتی تھی۔
[منهاج المسلم، ص: 681-682] ،
واضح رہے کہ عدل ایک معروف طریقہ ہے جس کا مطلب ہے: اصحاب الفرائض کے حصص کا اصل مسئلہ سے بڑھ جانا۔
مذکور بالا مسئلہ میں اصل مسئلہ 6 سے بنے گا، نصف خاوند کے لئے، تہائی دو ماں کا، نصف (3) بہن کا، اور چھٹا حصہ (1) دادا کا، عدل کے بعد ترکہ چھ کے بجائے نو حصے ہوں گے، پھر دادا بہن سے مقاسمہ کا تقاضہ کرے گا، لہٰذا دادا کو بھائی تصور کر کے اس کا ایک حصہ اور بہن کے تین حصے ملا کر چار حصوں کو بہن اور دادا کے درمیان «للذكر مثل حظ الأنثيين» کے قاعدے کے مطابق تقسیم کر دیا جائے گا۔
. . . 6 . . . 9 . . . 27
خاوند . . . 3 . . . 3 . . . 9
ماں . . . 2 . . . 2 . . . 6
بہن . . . 2 . . . 3 . . . 4
دادا . . . 1 . . . 1 . . . 8


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن ثابت الأنصاري، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو خارجة، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب
Newقتادة بن دعامة السدوسي ← زيد بن ثابت الأنصاري
ثقة ثبت مشهور بالتدليس
👤←👥همام بن يحيى العوذي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهمام بن يحيى العوذي ← قتادة بن دعامة السدوسي
ثقة
👤←👥سعيد بن عامر الضبعي، أبو محمد
Newسعيد بن عامر الضبعي ← همام بن يحيى العوذي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 2964 in Urdu