🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب قول زيد فى الجد:
دادا کے بارے میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی رائے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2963
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: قَالَ عَامِرٌ: "خُذْ مِنْ أَمْرِ الْجَدِّ مَا اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: يَعْنِي قَوْلَ زَيْدٍ.
اسماعیل سے مروی ہے عامر (الشعبی) نے کہا: دادا کے معاملے میں اس پر عمل کرو جس پر (علماء) لوگوں نے اجماع کیا ہے۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یعنی سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا قول اپناؤ۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 2963]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عامر الشعبي، [مكتبه الشامله نمبر: 2972] »
عامر الشعبی تک اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مالك فى الفرائض 2] ، [ابن أبى شيبه 11257، 11316] ، [عبدالرزاق 19042]
وضاحت: (تشریح احادیث 2960 سے 2963)
ان تمام آثار سے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی رائے معلوم ہوئی کہ باپ کی غیر موجودگی میں دادا کا حصہ ہے۔
دادا، پوتے، چچا، بھتیجے کی تصریح گرچہ قرآن پاک میں وارد نہیں ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصص «أَلْحِقُوْا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا، فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ» [صحيح مسلم 4141] کے تحت مقرر فرما دیئے ہیں۔
تفصیل کے لئے دیکھئے: [المحلى 384/9] ، [فتح الباري 20/12] ، [منهاج المسلم، ص: 679] ۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عامر الشعبي، أبو عمروثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← عامر الشعبي
ثقة ثبت
👤←👥عيسى بن يونس السبيعي، أبو محمد، أبو عمرو
Newعيسى بن يونس السبيعي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة مأمون
👤←👥سعيد بن المغيرة المصيصي، أبو عثمان
Newسعيد بن المغيرة المصيصي ← عيسى بن يونس السبيعي
ثقة