سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب من قال العلم الخشية وتقوى الله:
اس کا بیان کہ علم خشیت اور اللہ کا تقویٰ ہے
حدیث نمبر: 311
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: "مَنْ جَعَلَ دِينَهُ غَرَضًا لِلْخُصُومَاتِ، أَكْثَرَ التَّنَقُّلَ".
اسماعیل بن ابی حکیم نے کہا: میں نے عمر بن عبدالعزیز کو سنا، وہ فرماتے تھے: جس نے اپنے دین کو جھگڑوں کا نشانہ بنایا (اس کا) تنقل زیادہ ہو گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 311]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 312] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 273/5] ، [إبانة 566-569] ، [أصول اعتقاد أهل السنة 216] ، [الشريعة ص: 62] ، [الفقيه 235/1] ، [جامع بيان العلم 1770]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 273/5] ، [إبانة 566-569] ، [أصول اعتقاد أهل السنة 216] ، [الشريعة ص: 62] ، [الفقيه 235/1] ، [جامع بيان العلم 1770]
وضاحت: (تشریح احادیث 301 سے 311)
تنقل کا معنی ایک جگہ سے دوسری جگ منتقل ہونا یا ایک رائے سے دوسری رائے کی طرف منتقل ہونا ہے، یعنی بار بار اپنی رائے یا قول بدلنا ہے۔
«كما قاله الدارمي» ۔
تنقل کا معنی ایک جگہ سے دوسری جگ منتقل ہونا یا ایک رائے سے دوسری رائے کی طرف منتقل ہونا ہے، یعنی بار بار اپنی رائے یا قول بدلنا ہے۔
«كما قاله الدارمي» ۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 311 in Urdu
إسماعيل بن أبي حكيم القرشي ← عمر بن عبد العزيز الأموي