سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. باب ما للنساء من الولاء:
کیا ولاء میں عورتوں کا بھی حق ہے؟
حدیث نمبر: 3180
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، عن مُعَاذٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "لَا تَرِثُ النِّسَاءُ مِنْ الْوَلَاءِ إِلَّا مَا أَعْتَقْنَ، أَوْ أَعْتَقَ مَنْ أَعْتَقْنَ، إِلَّا الْمُلَاعَنَةُ، فَإِنَّهَا تَرِثُ مَنْ أَعْتَقَ ابْنُهَا، وَالَّذِي انْتَفَى مِنْهُ أَبُوهُ".
حسن رحمہ اللہ نے کہا: عورتیں ولاء کی وارث نہ ہوں گی سوائے ان عورتوں کے جنہوں نے اس (غلام) کو آزاد کیا یا جس غلام کو انہوں نے آزاد کیا اس نے (کسی کو) آزاد کیا (اور) سوائے ملاعنہ (لعان کرنے والی عورتوں) کے کیوں کہ وہ اس کی وارث ہو گی جس کو اس کے لڑکے نے آزاد کیا، جس لڑکے سے اس کے باپ نے انکار کر دیا ہو (کہ یہ لڑکا میرا نہیں ہے)۔ [سنن دارمي/من كتاب الفرائض/حدیث: 3180]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3191] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11552] ، [ابن منصور 481] ۔ اس کی سند میں اشعث: ابن عبداللہ بن جابر الحدانی ہیں۔
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 11552] ، [ابن منصور 481] ۔ اس کی سند میں اشعث: ابن عبداللہ بن جابر الحدانی ہیں۔