🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
6. باب فى الذى يوصي بأكثر من الثلث:
ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3226
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ:"فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِأَكْثَرَ مِنْ الثُّلُثِ فَرَضِيَ الْوَرَثَةُ، قَالَ: هُوَ جَائِزٌ". قَالَ أَبُو مُحَمَّد: أَجَزْنَاهُ يَعْنِي فِي الْحَيَاةِ.
ہشام سے مروی ہے حسن رحمہ اللہ نے ایسے آدمی کے بارے میں کہا جو ثلث (تہائی) سے زیادہ وصیت کرے اور وارثین اس پر راضی ہوں، کہا: یہ جائز ہے۔ امام دارمی ابو محمد رحمہ اللہ نے کہا: جائز ہے لیکن اس کی زندگی میں ہی (مرنے کے بعد نہیں)۔ [سنن دارمي/من كتاب الوصايا/حدیث: 3226]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن، [مكتبه الشامله نمبر: 3237] »
ابوالنعمان کا نام محمد بن الفضل ہے، اور ہشام: ابن حسان ہیں۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 10775] ، [عبدالرزاق 16452] ، [سعيد بن منصور 392، 393] ، [طبراني 271/9، 9161]
وضاحت: (تشریح احادیث 3223 سے 3226)
اپنے مال میں ایک ثلث تک کی وصیت کسی نیک کام کے لئے کرنا جائز ہے، ایک تہائی سے زیادہ کی وصیت کرنے کی شریعت میں ممانعت ہے، جیسا کہ اگلے باب میں تفصیل سے آ رہا ہے۔
اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ثلث سے زیادہ خرچ کرے تو یہ جائز ہے، اگر فوت ہو جائے اور وارثین راضی ہوں تب بھی ایسی وصیت کی تنفیذ ہوگی، اگر راضی نہ ہوں تو تنفیذ روک دی جائے گی۔
مذکور بالا آثار و اقوال کا خلاصہ یہی ہے۔
والله اعلم۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيدثقة يرسل كثيرا ويدلس
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← الحسن البصري
ثقة حافظ
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥محمد بن الفضل السدوسي، أبو النعمان
Newمحمد بن الفضل السدوسي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة ثبت تغير في آخر عمره