🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب من تعلم القرآن ثم نسيه:
جو کوئی قرآن پڑھے پھر بھول جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3372
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ ثُمَّ يَنْسَاهُ، إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ أَجْذَمُ"، قَالَ أَبُو مُحَمَّد: عِيسَى وهُوَ ابْنُ فَائِدٍ.
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی قرآن پڑھ کر (حفظ کر کے) بھول جائے وہ قیامت کے دن الله تعالیٰ سے کٹے ہوئے ہاتھ والا ہو کر ملے گا۔ (یعنی خالی ہاتھ یا بے زبان ہو کر ملے گا)۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: عیسیٰ: ابن فائد ہیں۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3372]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في هذا الإسناد ثلاث علل: جهالة عيسى بن فائد وجهالة الرجل وضعف يزيد بن أبي زياد، [مكتبه الشامله نمبر: 3383] »
اس حدیث کی سند میں تین علتیں ہیں جہالہ عیسیٰ بن فائد اور جہالہ رجل اور ضعف یزید بن ابی زیاد۔ یکھئے: [أبوداؤد 1474] ، [أحمد 284/5] ، [عبدبن حميد 306] و [البزار فى كشف الاستار 1642] ، [ابن أبى شيبه 10044] ، [عبدالرزاق 5989] ، [أبوالفضل عبدالرحمٰن فى فضائل القرآن 1]
وضاحت: (تشریح احادیث 3368 سے 3372)
امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے اس حدیث کو «كتاب الصلاة، باب التشديد فيمن حفظ القرآن ثم نسيه» میں ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پڑھنے سے مراد حفظ کر کے بھول جانا ہے، اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو ایسے حفاظ کے لئے بڑی وعیدِ شدید تھی جو قرآن یاد کر کے بھول جائیں۔
لیکن یہ حدیث صحیح نہیں ہے، قرآن پاک میں بھی ہے: «﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا .....﴾ [طه: 124-126] » بعض لوگ اس سے مراد قرآن پڑھ کر یا حفظ کر کے بھول جانا لیتے ہیں، لیکن شیخ ابن باز رحمہ اللہ نے اس رائے کی تردید کی اور بتایا کہ حدیث ضعیف، اور اس سے مراد قرآن پاک کو، اس کی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دینا اور اس پر عمل نہ کرنا ہے، ایسے آدمی کی زندگی میں تنگی رہے گی جو اس سے روگردانی کرے، اور وہ قیامت کے دن اندھا اٹھایا جائے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! دنیا میں تو میں بصیر (بینا) تھا پھر اندھا بنا کر کیوں اٹھایا گیا؟ ارشادِ ربانی ہوگا: یہ اس لئے کہ تو نے میری آیتوں سے غفلت برتی، اس لئے جا تیری بھی مطلقاً پذیرائی نہ ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ذلت و رسوائی سے بچائے اور قرآن پاک پر عمل کی توفیق بخشے، آمین۔

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن عبادة الأنصاري، أبو قيس، أبو لبابة، أبو ثابتصحابي
👤←👥اسم مبهم
Newاسم مبهم ← سعد بن عبادة الأنصاري
0
👤←👥عيسى بن فائد الرقي
Newعيسى بن فائد الرقي ← اسم مبهم
مجهول
👤←👥يزيد بن أبي زياد الهاشمي، أبو عبد الله
Newيزيد بن أبي زياد الهاشمي ← عيسى بن فائد الرقي
ضعيف الحديث
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← يزيد بن أبي زياد الهاشمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥سعيد بن عامر الضبعي، أبو محمد
Newسعيد بن عامر الضبعي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
Sunan Darmi Hadith 3372 in Urdu