پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب من قرأ ألف آية:
جو شخص ایک ہزار آیات پڑھے اس کی فضیلت
حدیث نمبر: 3495
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، عَنْ سَالِمٍ أَخِي أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "مَنْ قَرَأَ أَلْفَ آيَةٍ، إِلَى خَمْسِ مِائَةٍ كُتِبَ لَهُ قِنْطَارٌ مِنْ الْأَجْرِ، الْقِيرَاطُ مِنْهُ مِثْلُ التَّلِّ الْعَظِيمِ".
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے ایک ہزار آیات پڑھیں اس کے لئے قنطار من الاجر لکھ دیا گیا جس کا قیراط بہت بڑے ٹیلے کے برابر ہے۔“ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3495]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «محمد بن القاسم كذبوه وموسى بن عبيدة ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 3506] »
اس روایت کی سند میں محمد بن القاسم کو کذاب کہا گیا ہے، اور موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، اور یہ سند (3488) پر بھی گذر چکی ہے، اور بعض روایات میں سو آیات بعض میں دو سو آیات اور یہاں اس روایت میں ہزار آیات کا ذکر ہے، لہٰذا متن بھی مضطرب ہے، اور آیات کی فضیلت و اجر و ثواب کے سلسلے میں ہمارے لئے احادیث صحیحہ ہی کافی ہیں جن کا ذکر اس کتاب فضائل القرآن کے ابتدائی ابواب میں گذر چکا ہے۔ آیات اور سور کی فضیلت کے سلسلے میں اکثر آثار موقوف اور ضعیف ہیں، اس لئے ان پر عمل کرنے سے پہلے صحیح اور ثابت ہونے کی معلومات کرنا ضروری ہے۔
اس روایت کی سند میں محمد بن القاسم کو کذاب کہا گیا ہے، اور موسیٰ بن عبیدہ ضعیف ہیں، اور یہ سند (3488) پر بھی گذر چکی ہے، اور بعض روایات میں سو آیات بعض میں دو سو آیات اور یہاں اس روایت میں ہزار آیات کا ذکر ہے، لہٰذا متن بھی مضطرب ہے، اور آیات کی فضیلت و اجر و ثواب کے سلسلے میں ہمارے لئے احادیث صحیحہ ہی کافی ہیں جن کا ذکر اس کتاب فضائل القرآن کے ابتدائی ابواب میں گذر چکا ہے۔ آیات اور سور کی فضیلت کے سلسلے میں اکثر آثار موقوف اور ضعیف ہیں، اس لئے ان پر عمل کرنے سے پہلے صحیح اور ثابت ہونے کی معلومات کرنا ضروری ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 3494)
جب قیراط چھوٹا پیمانہ بہت بڑے ٹیلے کے برابر ہے تو قنطار بڑے پیمانے کا عالم کیا ہوگا؟
جب قیراط چھوٹا پیمانہ بہت بڑے ٹیلے کے برابر ہے تو قنطار بڑے پیمانے کا عالم کیا ہوگا؟
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 3495 in Urdu
هجيمة بنت حيي الأوصابية ← عويمر بن مالك الأنصاري