🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب ما أكرم النبى صلى الله عليه وسلم بنزول الطعام من السماء:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم میں آسمان سے کھانا اترنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 57
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ"، فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْ الْقَوْمِ، فَتَعَاقَبُوهَا إِلَى الظُّهْرِ مِنْ غُدْوَةٍ، يَقُومُ قَوْمٌ وَيَجْلِسُ آخَرُونَ، فَقَالَ رَجُلٌ لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَمَا كَانَتْ تُمَدُّ؟، فَقَالَ سَمُرَةُ: مِنْ أَيِّ شَيْءٍ تَعْجَبُ؟ مَا كَانَتْ تُمَدُّ إِلَّا مِنْ هَا هُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثرید سے بھرا ہوا ایک برتن لایا گیا اور لوگوں کے سامنے رکھ دیا گیا اور صبح سے دوپہر تک لوگ باری باری اس سے کھانا تناول کرتے رہے، ایک جماعت کھڑی ہوتی اور دوسری جماعت بیٹھ جاتی۔ ایک آدمی نے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا اس برتن یا پیالے میں اور کچھ ڈالا گیا تھا؟ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں تعجب کیوں ہے؟ اور انہوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: اس میں وہاں سے کھانا آ رہا تھا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 57]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 57] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن ابي شيبة 11754] ، [ترمذي 3629] ، [دلائل النبوة 92/6] ، [صحيح ابن حبان 6529] ۔ مزید دیکھئے: [موارد الظمآن 2149]
وضاحت: (تشریح احادیث 56 سے 57)
❀ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ حضرت زکریا علیہ السلام اور حضرت مریم علیہا السلام کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی کبھی کبھی آسمان سے رزق آتا تھا۔
❀ اس حدیث سے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ و کرامت ثابت ہوئی کہ ثرید کا ایک چھوٹا سا برتن اور اس سے لوگ صبح سے شام تک کھاتے رہے۔
❀ یہ کرامت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی جو اس نے اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی، ورنہ انسان کے بس میں کچھ نہیں ہے، جیسا کہ سیدنا سمرة رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا کہ کھانا وہاں سے آرہا تھا۔


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سمرة بن جندب الفزاري، أبو محمد، أبو سعيد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن، أبو سليمانصحابي
👤←👥يزيد بن عبد الله العامري، أبو العلاء
Newيزيد بن عبد الله العامري ← سمرة بن جندب الفزاري
ثقة
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← يزيد بن عبد الله العامري
ثقة
👤←👥يزيد بن هارون الواسطي، أبو خالد
Newيزيد بن هارون الواسطي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة متقن
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← يزيد بن هارون الواسطي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
3625
نتداول في قصعة من غدوة حتى الليل يقوم عشرة ويقعد عشرة قلنا فما كانت تمد قال من أي شيء تعجب ما كانت تمد إلا من هاهنا وأشار بيده إلى السماء
سنن الدارمي
57
أتي بقصعة من ثريد فوضعت بين يدي القوم فتعاقبوها إلى الظهر من غدوة يقوم قوم ويجلس آخرون فقال رجل لسمرة بن جندب أما كانت تمد فقال سمرة من أي شيء تعجب ما كانت تمد إلا من ها هنا وأشار بيده إلى السماء
Sunan Darmi Hadith 57 in Urdu