سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. باب الرحلة فى طلب العلم واحتمال العناء فيه:
علم کی طلب میں سفر کرنا اور اس میں مشقت برداشت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 587
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: "لَوْ رَفَقْتُ بِابْنِ عَبَّاسٍ، لَأَصَبْتُ مِنْهُ عِلْمًا كَثِيرًا".
ابوسلمہ (بن عبدالرحمٰن بن عوف) نے کہا: اگر میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی رفاقت اختیار کی ہوتی تو ان سے بہت سا علم حاصل کر لیتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 587]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 587] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المعرفة و التاريخ 559/1] ، [الجامع لأخلاق الراوي 385] ، [جامع بيان العلم 843] ۔ نیز دیکھئے اثر رقم (426)۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المعرفة و التاريخ 559/1] ، [الجامع لأخلاق الراوي 385] ، [جامع بيان العلم 843] ۔ نیز دیکھئے اثر رقم (426)۔
وضاحت: (تشریح احادیث 585 سے 587)
«رفق به: إذ الان جانبه و حسن صنيعه» یہ اس لئے تھا کہ ابوسلمہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہم عصر تھے اور درمیان میں کچھ اختلافات تھے، ابوسلمہ حسرت سے کہتے تھے: کاش میں نے ان سے علم حاصل کیا ہوتا۔
«رفق به: إذ الان جانبه و حسن صنيعه» یہ اس لئے تھا کہ ابوسلمہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہم عصر تھے اور درمیان میں کچھ اختلافات تھے، ابوسلمہ حسرت سے کہتے تھے: کاش میں نے ان سے علم حاصل کیا ہوتا۔