یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب فى حسن النبى صلى الله عليه وسلم:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن و جمال کا بیان
حدیث نمبر: 59
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي الثَابِتٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنُ أَخِي مُوسَى، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْلَجَ الثَّنِيَّتَيْنِ، إِذَا تَكَلَّمَ رُئِيَ كَالنُّورِ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ ثَنَايَاهُ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ثنایا (سامنے کے دو دانت) میں جھری تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گفتگو فرماتے تو ان دونوں دانتوں کے درمیان نور کی شعاعیں پھوٹتی دیکھی جاتیں۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 59]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 59] »
اس روایت میں ایک راوی عبدالعزيز متروک ہے اور اس کو ترمذی نے [شمائل 14] ميں، فسوی نے [المعرفة والتاريخ 288/3] میں، بیہقی نے [الدلائل 215/1] میں اور بغوی نے [شرح السنة 3644] میں اسی سند سے ذکر کیا ہے۔
اس روایت میں ایک راوی عبدالعزيز متروک ہے اور اس کو ترمذی نے [شمائل 14] ميں، فسوی نے [المعرفة والتاريخ 288/3] میں، بیہقی نے [الدلائل 215/1] میں اور بغوی نے [شرح السنة 3644] میں اسی سند سے ذکر کیا ہے۔
الرواة الحديث:
Sunan Darmi Hadith 59 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي