الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
84. باب فى غسل المستحاضة:
زائد حیض والی (مستحاضہ) عورت کے غسل کا بیان
حدیث نمبر: 811
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: "تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ ثُمَّ تَحْتَشِي وَتَسْتَثْفِرُ، ثُمَّ تُصَلِّي"، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَإِنْ كَانَ يَسِيلُ؟ قَالَ:"وَإِنْ كَانَ يَسِيلُ مِثْلَ هَذَا الْمَثْعَبِ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مستحاضہ کے بارے میں مروی ہے کہ وہ حیض کے دنوں میں نماز ترک کرے گی، پھر غسل کر کے روئی کا پھایا لگائے گی، پھر نماز پڑھے گی، کسی نے پوچھا: اگر خون بہتا ہی رہے تو؟ فرمایا: چاہے اس پر نالے ہی کی طرح کیوں نہ بہتا رہے۔ یعنی مقام مخصوص پر روئی بھر کر نماز پڑھے چاہے جتنا خون نکلے۔ [سنن دارمي/من كتاب الطهارة/حدیث: 811]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 815] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحلی لابن حزم 252/1] ۔ نیز آگے بھی یہ روایت آرہی ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [المحلی لابن حزم 252/1] ۔ نیز آگے بھی یہ روایت آرہی ہے۔
الرواة الحديث:
عمار بن أبي عمار الهاشمي ← عبد الله بن العباس القرشي