سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب اتباع السنة:
سنت کی پیروی کا بیان
حدیث نمبر: 99
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ، قَالَ: "مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَةً فِي دِينِهِمْ إِلَّا نَزَعَ اللَّهُ مِنْ سُنَّتِهِمْ مِثْلَهَا، ثُمَّ لَا يُعِيدُهَا إِلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
حسان بن عطيہ نے کہا: جس قوم نے بھی اپنے دین میں بدعت ایجاد کی اللہ تعالی ان سے اسی کے مثل سنت اٹھا لیتا ہے، پھر وہ سنت اللہ تعالی قیامت تک واپس نہیں لائے گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 99]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 99] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 73/6] ، [المعرفة 386/3] ، [شرح اعتقاد أهل السنة 129] ، [الإبانة لابن بطه 328] لیکن یہ موقوف روایت ہے۔
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 73/6] ، [المعرفة 386/3] ، [شرح اعتقاد أهل السنة 129] ، [الإبانة لابن بطه 328] لیکن یہ موقوف روایت ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 96 سے 99)
یہ تمام روایات جو گرچہ ائمہ کرام کے اقوال ہیں، لیکن ان سے سنّت کی فضیلت، تمسک بالسنۃ کی اہمیت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ ایک بدعت ایجاد ہوتی ہے تو اسی طرح کی ایک سنّت معدوم ہو جاتی ہے۔
یہ تمام روایات جو گرچہ ائمہ کرام کے اقوال ہیں، لیکن ان سے سنّت کی فضیلت، تمسک بالسنۃ کی اہمیت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ ایک بدعت ایجاد ہوتی ہے تو اسی طرح کی ایک سنّت معدوم ہو جاتی ہے۔
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← حسان بن عطية المحاربي