Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. باب ما يقول إذا رفع راسه من الركوع:
باب: جب رکوع سے سر اٹھائے تو کیا کہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 478 ترقیم شاملہ: -- 1073
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَى قَوْلِهِ: وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، وَلَمْ يَذْكُرْ: مَا بَعْدَهُ.
حفص نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ہشام بن حسان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حدیث بیان کی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان الفاظ تک روایت کی: وملء ما شئت من شيء بعد۔ (اور ان کے بعد جو تو چاہے اس کی وسعت بھر۔) انہوں (حفص) نے آگے کا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1073]
امام صاحب اسےایک اور استاد سے ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مرفوع روایت بیان کرتے ہیں اور دعا صرف وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ تک نقل کرتے ہیں، بعد والے دعائیہ کلمات بیان نہیں کرتے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1073]
ترقیم فوادعبدالباقی: 478
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباسصحابي
👤←👥عطاء بن أبي رباح القرشي، أبو محمد
Newعطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي
ثبت رضي حجة إمام كبير الشأن
👤←👥قيس بن سعد الحبشي، أبو عبد الملك، أبو عبد الله
Newقيس بن سعد الحبشي ← عطاء بن أبي رباح القرشي
ثقة
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← قيس بن سعد الحبشي
ثقة حافظ
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← حفص بن غياث النخعي
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1073 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1073
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(اللهم لَا مَانِعَ لِمَا.......الخ)
کو بندے کی صحیح ترین بات قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس میں انسان اپنے تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہے اور اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر انسان کو کچھ نہیں حاصل ہو سکتا،
انسان کو جو چیز اللہ تعالیٰ نہ دینا چاہے دنیا کی کوئی طاقت اس کو دے نہیں سکتی اور جو وہ دینا چاہے دنیا کی کوئی طاقت اس کو اس سے محروم نہیں کر سکتی۔
اس لیے انسان کو ناجائز تدابیر اورذرائع کو اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
اور ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد دعا پڑھتے تھے کبھی چھوٹی اور کبھی بڑی،
اس لیے مقتدی کی طرح امام کو بھی رکوع کے بعد دعا پڑھنی چاہیے،
اور ان حدیثوں سے یہ بھی معلوم ہوا،
اللہ تعالیٰ لامحدود حمدوثنا کا حقدار ہے آسمانوں زمین اور خلا کی پورائی کا مقصد یہی ہے کیونکہ انسانی پیمانوں کے اعتبار سے یہ چیزیں اپنی ممکن نہیں ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1073]