صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
42. باب مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:
باب: رکوع اور سجدہ میں کیا کہے۔
ترقیم عبدالباقی: 485 ترقیم شاملہ: -- 1089
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : " كَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ فِي الرُّكُوعِ؟ قَالَ: أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لا إله إلا أنت، فأخبرني ابن أبي مليكة ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ، أَوْ سَاجِدٌ، يَقُولُ: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنِّي لَفِي شَأْنٍ، وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ ".
ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے پوچھا: آپ رکوع میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جہاں تک (دعا) «سبحانك وبحمدك، لا إلہ إلا أنت» ”تو پاک ہے (اے اللہ!) اپنی حمد کے ساتھ، کوئی معبود برحق نہیں تیرے سوا“ کا تعلق ہے تو مجھے ابن ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا تو میں نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنی کسی (اور) بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، میں نے تلاش کیا، پھر آپ رکوع یا سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: «سبحانك وبحمدك، لا إلہ إلا أنت» ۔ میں نے کہا: آپ پر میرے ماں باپ قربان! میں ایک کیفیت میں تھی اور آپ ایک ہی کیفیت میں تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1089]
ابن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا: ”آپ رکوع میں کیا کہتے ہیں؟“ انہوں نے کہا: «سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کا حقدار نہیں ہے“، کیونکہ مجھے ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت سنائی، انہوں نے کہا: ”ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہ پایا، میں نے خیال کیا شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا، پھر واپس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع یا سجدہ میں تھے اور فرما رہے تھے: «سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کا حقدار نہیں ہے“، تو میں نے کہا: ”میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان! میں کیا سمجھ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس حال میں ہیں“۔“ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1089]
ترقیم فوادعبدالباقی: 485
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1089 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1089
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
افْتَقَدْتُ:
اورفَقَدتُ،
فقدان سے ہیں اور دونوں کا معنی ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نہ ملے۔
(2)
تَحَسَّسْتُ:
حس سےہے،
ڈھونڈنا،
تلاش کرنا،
تحس الشئي کا معنی ہوتا ہے،
حواس سے پتہ لگانا۔
(3)
شَأْنٍ:
حال،
کہتے میں ما شأنك:
تمہارا کیا حال ہے،
یعنی میں غیرت میں مبتلا تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے الگ تھلگ ہو کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رازونیاز میں مشغول تھے۔
مفردات الحدیث:
(1)
افْتَقَدْتُ:
اورفَقَدتُ،
فقدان سے ہیں اور دونوں کا معنی ہے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے نہ ملے۔
(2)
تَحَسَّسْتُ:
حس سےہے،
ڈھونڈنا،
تلاش کرنا،
تحس الشئي کا معنی ہوتا ہے،
حواس سے پتہ لگانا۔
(3)
شَأْنٍ:
حال،
کہتے میں ما شأنك:
تمہارا کیا حال ہے،
یعنی میں غیرت میں مبتلا تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے الگ تھلگ ہو کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ رازونیاز میں مشغول تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1089]
Sahih Muslim Hadith 1089 in Urdu
عبد الله بن أبي مليكة القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق