🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. باب مَا يُقَالُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ:
باب: رکوع اور سجدہ میں کیا کہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 482 ترقیم شاملہ: -- 1083
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا صَالِحٍ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَقْرَبُ مَا يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ ".
ذکوان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1083]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بندہ سجدہ کی حالت میں اپنے رب کی رحمت کے بہت قریب ہوتا ہے لہٰذا اس میں خوب دعا کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1083]
ترقیم فوادعبدالباقی: 482
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 483 ترقیم شاملہ: -- 1084
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ، وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ، وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَتَهُ، وَسِرَّهُ ".
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں کہا کرتے تھے: اے اللہ! میرے سارے گناہ بخش دے، چھوٹے بھی اور بڑے بھی، پہلے بھی اور پچھلے بھی، کھلے بھی اور چھپے بھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1084]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں یہ دعا کرتے تھے، اے اللہ میرے سارے گناہ بخش دے، چھوٹے بھی اور بڑے بھی، پہلے بھی اور پچھلے بھی کھلے ہوئے بھی اور چھپے ہوئے بھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1084]
ترقیم فوادعبدالباقی: 483
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 484 ترقیم شاملہ: -- 1085
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ ".
منصور نے ابوضحیٰ (مسلم بن صبیح القرشی) سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں بکثرت (یہ کلمات) کہا کرتے تھے: تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں اے میرے اللہ! ہمارے رب! تیری حمد کے ساتھ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے۔ آپ (یہ کلمات) قرآن مجید کی تاویل (حکم کی تعمیل) کے طور پر فرمایا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1085]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدہ میں بکثرت یہ کلمات کہا کرتے تھے: اے اللہ! ہمارے رب! ہم تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح بیان کرتے ہیں، اے اللہ! مجھے بخش دے۔ آپ (یہ کلمات کہ کر) قرآن مجید کے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1085]
ترقیم فوادعبدالباقی: 484
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 484 ترقیم شاملہ: -- 1086
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ قَبْلَ أَنْ يَمُوت: " سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذِهِ الْكَلِمَاتُ الَّتِي أَرَاكَ أَحْدَثْتَهَا، تَقُولُهَا؟ قَالَ: جُعِلَتْ لِي عَلَامَةٌ فِي أُمَّتِي، إِذَا رَأَيْتُهَا قُلْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ".
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے مسلم (بن صبیح) سے، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات سے پہلے بکثرت یہ فرماتے تھے: (اے اللہ! میں تیری حمد کے ساتھ تیری ستائش کرتا ہوں، تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! یہ کلمات کیا ہیں جو میں دیکھتی ہوں کہ آپ نے اب کہنے شروع کر دیے ہیں؟ آپ نے فرمایا: میرے لیے میری امت میں ایک علامت مقرر کر دی گئی ہے کہ جب میں اسے دیکھ لوں تو یہ (کلمات) کہوں: جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے ... سورت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1086]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی موت سے پہلے بکثرت یہ کلمات کہتے تھے: تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں تجھ سے معافی کا خواستگار ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں (گناہوں سے باز آتا ہوں) عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتی ہیں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کلمات جو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے دیکھتی ہوں، اب کیوں شروع کردیئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے میری امت میں ایک علامت مقرر کی گئی ہے، جب اسے دیکھتا ہوں تو یہ کلمات کہتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ﴾ مکمل سورت پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1086]
ترقیم فوادعبدالباقی: 484
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 484 ترقیم شاملہ: -- 1087
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُنْذُ نَزَلَ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، يُصَلِّي صَلَاةً، إِلَّا دَعَا، أَوَ قَالَ فِيهَا: " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ".
مفضل نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب سے آپ پر «إذا جاء نصر اللہ والفتح» اتری، اس وقت سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے جو بھی نماز پڑھی اس میں یہ دعا مانگی یا یہ کہا: سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي۔ اے میرے رب! میں تیری پاکیزگی بیان کرتا ہوں تیری حمد کے ساتھ، اے میرے اللہ! مجھے بخش دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1087]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ﴾ آیت اتری، اس وقت سے میں نے ہر نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعائیہ کلمات کہتے دیکھا۔ اے میرے رب تو اپنی حمد کے ساتھ تسبیح (پاکیزگی) سے متصف ہے، اے اللہ مجھے بخش دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1087]
ترقیم فوادعبدالباقی: 484
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 484 ترقیم شاملہ: -- 1088
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ: " سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ؟ فَقَالَ: " خَبَّرَنِي رَبِّي، أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي، فَإِذَا رَأَيْتُهَا، أَكْثَرْتُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1، فَتْحُ مَكَّةَ، وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا {2} فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا {3} سورة النصر آية 2-3 ".
عامر (شعبی) نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے یہ فرمایا کرتے تھے: میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی حمد کے ساتھ، میں اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت کہتے ہیں: «سبحان اللہ وبحمده، أستغفر اللہ وأتوب إليه» ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تو آپ نے فرمایا: میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلدی ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا اور جب میں اس کو دیکھ لوں تو بکثرت کہوں: «سبحان اللہ وبحمده، أستغفر اللہ وأتوب إليه» تو (وہ نشانی) میں دیکھ چکا ہوں۔ «إذا جاء نصر اللہ والفتح» جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے (یعنی) فتح مکہ «وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا» اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھ لیں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی پاکیزگی بیان کریں اور اس سے بخشش طلب کریں بلاشبہ وہ توبہ قبول فرمانے والا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1088]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت فرماتے: اللہ تو اپنی حمد کے ساتھ پاک ہے، میں اللہ سے بخشش کا طالب ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ آپ بکثرت دعا کرتے ہیں: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے رب نے مجھے خبر دی ہے کہ میں جلد ہی اپنی امت میں ایک نشانی دیکھوں گا۔ اور جب میں اس کو دیکھ لوں تو بکثرت کہوں: سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، تو میں نشانی دیکھ چکا ہوں، (جب اللہ کی نصرت اور فتح آ پہنچے، اور آپ لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق داخل ہوتے دیکھیں یا دیکھ لیں تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ، اس کی تسبیح بیان کیجئے اور اس سے بخشش طلب کیجئے، بلاشبہ وہ قبول فرمانے والا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1088]
ترقیم فوادعبدالباقی: 484
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 485 ترقیم شاملہ: -- 1089
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ : " كَيْفَ تَقُولُ أَنْتَ فِي الرُّكُوعِ؟ قَالَ: أَمَّا سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لا إله إلا أنت، فأخبرني ابن أبي مليكة ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ: افْتَقَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ ذَهَبَ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ، فَتَحَسَّسْتُ ثُمَّ رَجَعْتُ، فَإِذَا هُوَ رَاكِعٌ، أَوْ سَاجِدٌ، يَقُولُ: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنِّي لَفِي شَأْنٍ، وَإِنَّكَ لَفِي آخَرَ ".
ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء سے پوچھا: آپ رکوع میں کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: جہاں تک (دعا) «سبحانك وبحمدك، لا إلہ إلا أنت» تو پاک ہے (اے اللہ!) اپنی حمد کے ساتھ، کوئی معبود برحق نہیں تیرے سوا کا تعلق ہے تو مجھے ابن ملیکہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی، انہوں نے کہا: ایک رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گم پایا تو میں نے یہ گمان کیا کہ آپ اپنی کسی (اور) بیوی کے پاس چلے گئے ہیں، میں نے تلاش کیا، پھر آپ رکوع یا سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: «سبحانك وبحمدك، لا إلہ إلا أنت» ۔ میں نے کہا: آپ پر میرے ماں باپ قربان! میں ایک کیفیت میں تھی اور آپ ایک ہی کیفیت میں تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1089]
ابن جریج سے روایت ہے کہ میں نے عطاء سے پوچھا، آپ رکوع میں کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، کیونکہ مجھے ابن ابی ملکیہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت سنائی، ایک رات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہ پایا، میں نے خیال کیا، شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیوی کے پاس چلے گئے ہیں تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کیا، پھر واپس آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع یا سجدہ میں تھے اور فرما رہے تھے: سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، تو اپنی حمد کے ساتھ، پاک ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کا حقدار نہیں ہے۔ تو میں نے کہا میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان، میں کیا سمجھ رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس حال میں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1089]
ترقیم فوادعبدالباقی: 485
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 486 ترقیم شاملہ: -- 1090
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيْلَةً مِنَ الْفِرَاشِ، فَالْتَمَسْتُهُ فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ، وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ، وَهُوَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ، لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ، كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہ پایا تو آپ کو ٹٹولنے لگی، میرا ہاتھ آپ کے پاؤں کے تلوے پر پڑا، اس وقت آپ سجدے میں تھے، آپ کے دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ کہہ رہے تھے: اے اللہ! میں تیری ناراضی سے تیری رضا مندی کی پناہ مانگتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری ہی پناہ مانگتا ہوں، میں تیری ثنا پوری طرح بیان نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف خود بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1090]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بستر پر نہ پایا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹٹولنے لگی تو میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کے تلوؤں پر پڑا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کھڑے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے حضور عرض کر رہے تھے: اے اللہ میں تیری ناراضی سے تیری رضامندی کی پناہ لیتا ہوں اور تیری سزا سے تیری معافی کی پناہ لیتا ہوں، اور تیری پکڑ سے بس تیری ہی پناہ لیتا ہوں، میں تیری صفت و ثنا پوری طرح بیان نہیں کر سکتا، (بس یہی کہہ سکتا ہوں) کہ تو ویسا ہے جیسا کہ تو نے خود اپنے بارے میں بتلایا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1090]
ترقیم فوادعبدالباقی: 486
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 487 ترقیم شاملہ: -- 1091
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ نَبَّأَتْهُ، " أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِه: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ "،
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے اور انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں (یہ کلمات) کہتے تھے: سبوح قدوس رب الملائكة والروح۔ (نہایت پاک ہے، مقدس ہے فرشتوں اور روح (جبریل رضی اللہ عنہ) کا پروردگار۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1091]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رکوع اور سجدے میں یہ کلمات کہتے تھے: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ نہایت پاک اور مقدس و منزہ ہے پروردگار ملائکہ کا اور روح کا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1091]
ترقیم فوادعبدالباقی: 487
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 487 ترقیم شاملہ: -- 1092
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ ، وَحَدَّثَنِي هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ہمیں ابوداؤد (طیالسی) نے شعبہ سے حدیث سنائی کہ قتادہ نے کہا: میں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا۔ ابوداؤد نے (مزید) کہا: اور ہشام نے مجھے حدیث سنائی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے مطرف سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1092]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1092]
ترقیم فوادعبدالباقی: 487
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں