پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
42. باب ما يقال في الركوع والسجود:
باب: رکوع اور سجدہ میں کیا کہے۔
ترقیم عبدالباقی: 487 ترقیم شاملہ: -- 1092
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ ، وَحَدَّثَنِي هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
ہمیں ابوداؤد (طیالسی) نے شعبہ سے حدیث سنائی کہ قتادہ نے کہا: میں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا۔ ابوداؤد نے (مزید) کہا: اور ہشام نے مجھے حدیث سنائی، انہوں نے قتادہ سے، انہوں نے مطرف سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1092]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1092]
ترقیم فوادعبدالباقی: 487
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1092 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1092
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں چھوٹی بڑی مختلف دعائیں پڑھا کرتے تھے۔
لیکن مسلم کی روایات میں ان کے پڑھنے کی تعداد کی تعیین نہیں کی گئی،
بعض جگہ بکثرت کہنے کا لفظ آیا ہے۔
سنن کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رکوع وسجود میں اگر تین دفعہ سے کم بھی سبحان اللہ کہہ لیا جائے تو رکوع اور سجدہ تو ادا ہو جائے گا لیکن اس میں ایک گونہ نقصان رہے گا،
کامل ادائیگی کے لیے کم سے کم تین دفعہ تسبیح کہنا ضروری ہے کیونکہ اس کو ذَالِكَ اَدْنَاہ (یہ ادنی درجہ ہے)
کہا گیا ہے،
اس لیے اس سے زیادہ مرتبہ کہنا چاہیے اور بعض مرتبہ ان ارکان کو لمبا کرنا چاہیے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت رکوع وسجود میں سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے۔
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں چھوٹی بڑی مختلف دعائیں پڑھا کرتے تھے۔
لیکن مسلم کی روایات میں ان کے پڑھنے کی تعداد کی تعیین نہیں کی گئی،
بعض جگہ بکثرت کہنے کا لفظ آیا ہے۔
سنن کی بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رکوع وسجود میں اگر تین دفعہ سے کم بھی سبحان اللہ کہہ لیا جائے تو رکوع اور سجدہ تو ادا ہو جائے گا لیکن اس میں ایک گونہ نقصان رہے گا،
کامل ادائیگی کے لیے کم سے کم تین دفعہ تسبیح کہنا ضروری ہے کیونکہ اس کو ذَالِكَ اَدْنَاہ (یہ ادنی درجہ ہے)
کہا گیا ہے،
اس لیے اس سے زیادہ مرتبہ کہنا چاہیے اور بعض مرتبہ ان ارکان کو لمبا کرنا چاہیے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت رکوع وسجود میں سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي کہتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1092]
Sahih Muslim Hadith 1092 in Urdu
مطرف بن عبد الله الحرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق