🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب بَيَانِ الإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةُ وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ:
باب: بیان اس ایمان کا جس سے آدمی جنت میں جائے گا اور بیان اس بات کا کہ حکم بجا لانے والا جنت میں جائے گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 15 ترقیم شاملہ: -- 110
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ "، قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا.
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل یعنی عبداللہ، ابوالزبیر، جابر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اگر میں فرض نماز پڑھتا رہوں اور حلال کو حلال سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس شخص نے عرض کیا: اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 110]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: بتلائیے جب میں فرض نمازیں ادا کروں، اور میں رمضان کے روزے رکھوں اور میں حلال کو حلال سمجھوں اور میں حرام سے اجتناب کروں اور اس پر کچھ اضافہ نہ کروں تو کیا جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نَعَمْ» ”ہاں۔“ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس پر کچھ اضافہ نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 110]
ترقیم فوادعبدالباقی: 15
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2950)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥معقل بن عبيد الله العبسي، أبو عبد الله
Newمعقل بن عبيد الله العبسي ← محمد بن مسلم القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن أعين الحراني، أبو علي
Newالحسن بن أعين الحراني ← معقل بن عبيد الله العبسي
ثقة
👤←👥سلمة بن شبيب المسمعي، أبو عبد الرحمن
Newسلمة بن شبيب المسمعي ← الحسن بن أعين الحراني
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 110 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 110
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
أَحْلَلْتُ الْحَلَالَ،
وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ:
میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے،
یا عہد کیا گیا ہے کہ میں شریعت کی تمام حدود وقیود کی پابندی کروں گا۔
نیز نماز کی پابندی اور اہتمام،
پورے دین کے قیام اور بقا کا باعث ہے،
اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے:
(مَنْ حَفِظَهَا وَحَافَظَ عَلَيْهَا،
حَفِظَ دِينَه) (موطا)
جس نے نما ز کو دیا رکھا اور اس کی حفاظت وپابندی کی،
اس نے اپنے دین کی یاد رکھا۔
“ اس لیے یہ وہم نہیں پیدا ہونا چاہیے کہ اس میں ایمان کے کسی رکن کا تذکرہ نہیں ہے اور نہ ہی اسلام کے تمام ارکان بیان ہوئے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 110]

Sahih Muslim Hadith 110 in Urdu