🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب بَيَانِ الإِيمَانِ الَّذِي يُدْخَلُ بِهِ الْجَنَّةُ وَأَنَّ مَنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ:
باب: بیان اس ایمان کا جس سے آدمی جنت میں جائے گا اور بیان اس بات کا کہ حکم بجا لانے والا جنت میں جائے گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 13 ترقیم شاملہ: -- 104
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِهَا، ثُمّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَمَا يُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: فَكَفَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَظَرَ فِي أَصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ وُفِّقَ، أَوْ لَقَدْ هُدِي "، قَالَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ: فَأَعَادَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعْبُدُ اللَّهَ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ، دَعِ النَّاقَةَ "،
عمر بن عثمان نے کہا: ہمیں موسیٰ بن طلحہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے جب ایک اعرابی (دیہاتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کھڑا ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار یا نکیل پکڑ لی، پھر کہا: اے اللہ کے رسول! (یا اے محمد!) مجھے وہ بات بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے، پھر اپنے ساتھیوں پر نظر دوڑائی، پھر فرمایا: اس کو توفیق ملی (یا ہدایت ملی)۔ پھر بدوی نے پوچھا: تم نے کیا بات کی؟ اس نے اپنی بات دہرائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔ (اب) اونٹنی کو چھوڑ دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 104]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے ایک اعرابی آپ کے سامنے آ کھڑا ہوا اور آپ کی اونٹنی کی مہار یا نکیل پکڑ لی پھر پوچھا اے اللہ کے رسول! یا اے محمد! مجھے وہ بات بتائیے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور آگ سے دور کر دے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے پھر اپنے ساتھیوں پر نظر دوڑائی، پھر فرمایا: اس کو توفیق یا ہدایت ملی۔ اور بدوی سے پوچھا: تو نے کیا کہا؟ اس نے اپنی بات دہرائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بندگی کر، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز کی پابندی کر، زکوٰۃ ادا کر، صلہ رحمی کر، اونٹنی کو چھوڑ دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 104]
ترقیم فوادعبدالباقی: 13
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) فى الزكاة، باب: وجوب الزكاة برقم (1396) وفي الادب، باب: فضل صلة الرحم برقم (5982) والنسائي فى ((المجتبي)) (234/1) فى الصلاة، باب: ثواب من اقام الصلاة برقم (467) انظر ((تحفة الاشراف)) برقم (3491)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 13 ترقیم شاملہ: -- 105
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْر ٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ وَأَبُوهُ عُثْمَانُ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ.
محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب اور ان کے والد عثمان دونوں نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا، وہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مانند بیان کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 105]
امام صاحب مذکورہ بالا روایت ایک دوسرے استاد سے نقل کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 105]
ترقیم فوادعبدالباقی: 13
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه في الحديث السابق برقم (104)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 13 ترقیم شاملہ: -- 106
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْنِينِي مِنَ الْجَنَّةِ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ، قَالَ: " تَعْبُدُ اللَّهَ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصِلُ ذَا رَحِمِكَ "، فَلَمَّا أَدْبَرَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ، دَخَلَ الْجَنَّةَ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ: " إِنْ تَمَسَّكَ بِهِ ".
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابواحوص نے حدیث بیان کی، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا: مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جس پر میں عمل کروں تو وہ مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ کی بندگی کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، نماز کی پابندی کرے، زکاۃ ادا کرے اور اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے۔ جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے ان چیزوں کی پابندی کی جن کا اسے حکم دیا گیا ہے تو جنت میں داخل ہو گا۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: اگر اس نے اس کی پابندی کی (تو جنت میں داخل ہو گا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 106]
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور دوزخ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی بندگی کر، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، نماز کی پابندی کر، زکوٰۃ دیتا رہ اور اپنے رشتے داروں سے صلہ رحمی کر۔ جب وہ پشت پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے ان چیزوں کی پابندی کی جن کا اس کو حکم دیا گیا ہے تو جنتی ہے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت ہے اگر ان چیزوں کی پابندی کی۔ (ابی وقاص) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 106]
ترقیم فوادعبدالباقی: 13
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه في الحديث قبل السابق برقم (104)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 14 ترقیم شاملہ: -- 107
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ، إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: " تَعْبُدُ اللَّهَ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ "، قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا أَبَدًا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَلَمَّا وَلَّى، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو جو تم پر لکھ دی گئی ہے، فرض زکاۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ وہ کہنے لگا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نہ کبھی اس پر کسی چیز کا اضافہ کروں گا اور نہ اس میں کمی کروں گا۔ جب وہ واپس جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے اس بات سے خوشی ہو کہ وہ ایک جنتی آدمی دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 107]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی بندگی کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو جو تم پر لکھ دی گئی ہے، فرض زکاۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ وہ کہنے لگا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نہ کبھی اس پر کسی چیز کا اضافہ کروں گا اور نہ اس میں کمی کروں گا۔ جب وہ واپس جانے لگا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے اس بات سے خوشی ہو کہ وہ ایک جنتی آدمی دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 107]
ترقیم فوادعبدالباقی: 14
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الزكاة برقم (1397) انظر ((التحفة)) برقم (4930)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 15 ترقیم شاملہ: -- 108
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، " أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَةَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّة؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ ".
ابومعاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیا فرماتے ہیں کہ جب میں فرض نماز ادا کروں، حرام کو حرام اور حلال کو حلال سمجھوں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 108]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نعمان بن قوقل آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! بتلائیے جب میں فرض نمازیں ادا کرتا رہوں، حرام سے بچتا رہوں اور حلال کو حلال قرار دوں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 108]
ترقیم فوادعبدالباقی: 15
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم في ((صحيحه)) انظر ((التحفة)) برقم (2313)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 15 ترقیم شاملہ: -- 109
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ شَيْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ وَزَادَ فِيهِ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا.
شیبان نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح اور ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! پھر اس سابقہ روایت کی طرح ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا: اور اس پر کسی چیز کا اضافہ نہ کروں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 109]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نعمان بن قوقل نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر مذکورہ روایت بیان کی اور آخر میں اتنا اضافہ کیا: اور اس پر کسی چیز کا اضافہ نہ کروں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 109]
ترقیم فوادعبدالباقی: 15
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2312 و 2326)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 15 ترقیم شاملہ: -- 110
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ "، قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا.
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل یعنی عبداللہ، ابوالزبیر، جابر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اگر میں فرض نماز پڑھتا رہوں اور حلال کو حلال سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس شخص نے عرض کیا: اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 110]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، بتلائیے جب میں فرض نمازیں ادا کروں، اور میں رمضان کے روزے رکھوں اور میں حلال کو حلال سمجھوں اور میں حرام سے اجتناب کروں اور اس پر کچھ اضافہ نہ کروں تو کیا جنت میں داخل ہو جاؤں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس پر کچھ اضافہ نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 110]
ترقیم فوادعبدالباقی: 15
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (2950)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں