یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
45. باب الاعتدال في السجود ووضع الكفين على الارض ورفع المرفقين عن الجنبين ورفع البطن عن الفخذين في السجود:
باب: سجدوں میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 495 ترقیم شاملہ: -- 1106
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ كلاهما، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، كَانَ َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا سَجَدَ، يُجَنِّحُ فِي سُجُودِهِ، حَتَّى يُرَى وَضَحُ إِبْطَيْهِ، وَفِي رِوَايَةِ اللَّيْثِ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا سَجَدَ، فَرَّجَ يَدَيْهِ عَنْ إِبْطَيْهِ، حَتَّى إِنِّي لَأَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ".
عمرو بن حارث اور لیث بن سعد دونوں نے جعفر بن ربیعہ سے اسی سند کے ساتھ (مذکورہ حدیث) بیان کی۔ عمرو بن حارث کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ فرماتے تو سجدے میں اپنے بازو (اس طرح) پھیلا لیتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ جاتی۔ اور لیث کی روایت میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ بغلوں سے جدا رکھتے حتیٰ کہ میں آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1106]
امام صاحب عمرو بن حارث اور لیث بن سعد سے جعفر بن ربیعہ کی سند سے حدیث بیان کرتے ہیں اور عمرو بن حارث کی روایت کے الفاظ یہ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ فرماتے، سجدے میں اپنی کہنیوں اور بازؤں کو اپنے پہلوؤں سے دور رکھتے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھی جاتی، اور لیث کے الفاظ میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے اپنے ہاتھ بغلوں سے جدا رکھتے، حتیٰ کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1106]
ترقیم فوادعبدالباقی: 495
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1106 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1106
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
فَرَّجَ بَينَ يَدَيهِ:
ہاتھوں کو کھولنا،
کشادہ کرنا،
یعنی ان کو پہلوؤں سے الگ اور دور رکھنا۔
(2)
يُجُنِّحُ:
تفريج،
تجنيح اور تخويه تینوں کا معنی ایک ہی ہے اور ان سب کا مقصد ہے اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے الگ اور دور رکھنا ہے،
یعنی دونوں باہیں اس قدر کشادہ ہوں کہ اگر بدن ننگا ہو تو بغلیں نظر آ سکیں۔
مفردات الحدیث:
(1)
فَرَّجَ بَينَ يَدَيهِ:
ہاتھوں کو کھولنا،
کشادہ کرنا،
یعنی ان کو پہلوؤں سے الگ اور دور رکھنا۔
(2)
يُجُنِّحُ:
تفريج،
تجنيح اور تخويه تینوں کا معنی ایک ہی ہے اور ان سب کا مقصد ہے اپنے ہاتھوں کو اپنے پہلوؤں سے الگ اور دور رکھنا ہے،
یعنی دونوں باہیں اس قدر کشادہ ہوں کہ اگر بدن ننگا ہو تو بغلیں نظر آ سکیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1106]
Sahih Muslim Hadith 1106 in Urdu
الليث بن سعد الفهمي ← جعفر بن ربيعة القرشي