🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب سترة المصلي:
باب: نمازی کا سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا استحباب، اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنا، اور گزرنے والے کا حکم اور گزرنے والے کو روکنا، نمازی کے آگے لیٹنے کا جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کا حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 502 ترقیم شاملہ: -- 1118
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي إِلَى رَاحِلَتِهِ، وقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، صَلَّى إِلَى بَعِيرٍ ".
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے کہا: ہمیں ابوخالد احمر نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی کبھی) اپنی سواری کو سامنے رکھتے ہوئے نماز پڑھ لیتے تھے۔ اور (محمد) بن نمیر نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو سامنے رکھتے ہوئے (قبلہ رو ہو کر) نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1118]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیتے تھے اور ابن نمیر نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ یا اونٹنی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الصلاة/حدیث: 1118]
ترقیم فوادعبدالباقی: 502
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن حيان الجعفري، أبو خالد
Newسليمان بن حيان الجعفري ← عبيد الله بن عمر العدوي
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← سليمان بن حيان الجعفري
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
507
يعرض راحلته فيصلي إليها إذا هبت الركاب قال كان يأخذ هذا الرحل فيعدله فيصلي إلى آخرته أو قال مؤخره
صحيح مسلم
1118
يصلي إلى راحلته
صحيح مسلم
1117
يعرض راحلته وهو يصلي إليها
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1118 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1118
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
بعير:
اطلاق،
انسان کی طرح مؤنث اور مذکر دونوں کے لیے ہے،
اور جمل:
رجل کی طرح مذکر کے لیے ہے اور (2)
نَاقَة:
مرأة کی طرح مؤنث کے لیے ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1118]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:507
507. حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری کو چوڑائی میں بٹھا دیتے پھر اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ (نافع کہتے ہیں:) میں نے عرض کیا: اچھا یہ بتایے کہ اگر سواری کے اونٹ اپنی جگہ سے اٹھ جاتے تو آپ کیا کرتے تھے؟ ابن عمر ؓ نے فرمایا: اس صورت میں آپ پالان کو اپنے سامنے کھڑا کر لیتے اور اس کی پچھلی لکڑی کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے۔ اور ابن عمر ؓ کا بھی یہی عمل تھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:507]
حدیث حاشیہ:

حیوان کو سترہ بنانے کے متعلق بعض ائمہ کرام سے کراہت منقول ہے کہ سترے کا مقصد نماز کا تحفظ ہے، لیکن حیوان پر کیا بھروسا کہ وہ کب اٹھ کر چل دے۔
لیکن امام بخاری ؒ کے نزدیک سترے کے معاملے میں نمازی کے لیے پورا توسع ہے۔
وہ ہرچیز کو سترہ بنا سکتا ہے۔
وہ چیز از قسم حیوان ہو یا غیر حیوان، انھوں نے عنوان میں چار چیزوں کا ذکر کر کے توسع کا اظہار فرما دیا، لیکن روایت میں سواری اور پالان کا ذکر ہے، درخت اور اونٹ کا ذکر نہیں۔
لیکن اونٹ اور اونٹنی تو ایک ہی جنس کے دو نام ہیں، جب سواری کی اونٹنی کو سترہ بنایا جا سکتا ہے تو اس سے اونٹ کا حکم بھی معلوم ہوگیا۔
رہا درخت کا معاملہ تو وہ اس طرح ثابت ہے کہ جب لکڑی پالان کو سترہ بنانا درست ہے تو اس سے لکڑی کی ہرجنس کا حکم معلوم ہوگیا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ امام بخاری ؒ نے اپنی عادت کے مطابق عنوان میں ان روایات کی طرف اشارہ کر دیا ہو جن میں صراحت کے ساتھ اونٹ اور درخت کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا ذکر ہے، چنانچہ ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے تھے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 692)
اسی طرح حضرت علی ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے غزوہ بدر والی رات دیکھا کہ ہم میں سے ہر شخص سو گیا تھا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کو سترہ بنا کر نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صبح تک دعا میں مشغول رہے۔
(السنن الکبریٰ للنسائي، أبواب السترة، حدیث: 823)

حضرت ابن عمر ؓ کے متعلق مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ آپ اونٹ کو سترہ بنا کر نماز پڑھنے کو مکروہ خیال کرتے تھے، ہاں! اگر اس پر پالان ہوتا تواس میں کوئی حرج خیال نہ کرتے تھے۔
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں کہ اس پر پالان ہونے کی صورت میں وہ آرام اورسکون سے بیٹھا رہتا ہے جبکہ اس کے بغیر اس کے مستی میں آ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
فقہاء نے پالان کی پچھلی لکڑی کو کم از کم سترے کی مقدار قراردیا ہے، اس کی اونچائی ایک ذراع یا 2 بٹے 3 ذراع ہوتی ہے، لیکن مصنف عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ کے اونٹ پرجو پالان ہوتا تھا، اس کی پچھلی لکڑی ایک ذراع کے برابر تھی۔
(فتح الباري: 751/1)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 507]

Sahih Muslim Hadith 1118 in Urdu