صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب الامر بالإيمان بالله تعالى ورسوله صلى الله عليه وسلم وشرائع الدين والدعاء إليه والسؤال عنه وحفظه وتبليغه من لم يبلغه
باب: اللہ و رسول اور دینی احکام پر ایمان لانے کا حکم کرنا اور اس کی طرف لوگوں کو بلانا دین کی باتوں کو پوچھنا یاد رکھنا اور دوسروں کو پہنچانا۔
ترقیم عبدالباقی: 17 ترقیم شاملہ: -- 117
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَا: جَمِيعًا حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَقَالَ: " أَنْهَاكُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ "، وَزَادَ ابْنُ مُعَاذٍ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَشَجِّ: أَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: " إِنَّ فِيكَ خَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ، الْحِلْمُ وَالأَنَاةُ ".
قرہ بن خالد نے ابوجمرہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شعبہ کی (سابقہ روایت کی) طرح حدیث بیان کی (اس کے الفاظ ہیں:) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو خشک کدو کے برتن، لکڑی سے تراشیدہ برتن، سبز مٹکے اور تارکول ملے برتن میں تیار کی جائے (اس میں زیادہ خمیر اٹھنے کا خدشہ ہے جس سے نبیذ شراب میں بدل جاتی ہے)۔“ ابن معاذ نے اپنے والد کی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے پیشانی پر زخم والے شخص (اشج) سے کہا: ”تم میں دو خوبیاں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے: عقل اور تحمل۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 117]
ابو جمرہ رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ مرفوع حدیث بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو دباء (تونبہ لکڑی کے تراشیدہ برتن) سبز مٹکے اور تار کول ملے برتن میں تیار کیا جائے۔ ابن معاذ رحمہ اللہ نے اپنے باپ کی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے اشج سے فرمایا: ”تم میں دو خوبیاں ایسی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے: عقل و سمجھ داری اور ٹھہراؤ و وقار۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 117]
ترقیم فوادعبدالباقی: 17
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخرجه في الحديث قبل السابق برقم (115)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 117 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 117
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
الْحِلْم:
عقل ودانائی اور تحمل و بردباری۔
(2)
الأناة:
ٹھہراؤ،
یا وقار،
جلد بازی سے پرہیز۔
(3)
أشَجّ:
جس کی پیشانی پر زخم ہو۔
فوائد ومسائل:
1- اشج کی تعریف کا پس منظر:
جب عبد القیس کا وفد مدینہ پہنچا تو یہ لوگ فورا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے،
مگر اشج سامان کے پاس رک گیا،
سب سامان اکٹھا کیا،
اونٹ کو باندھا،
پھر کپڑے تبدیل کیے،
اس کے بعد آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس پہنچا،
آپ نے اسے قریب بلایا،
اپنے پہلو میں بٹھایا اور یہ الفاظ کہے کہ تم میں دو ایسی خوبیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں یہ دونوں خوبیاں تمام خوبیوں کی جڑ اور اصل ہیں۔
(2)
مثلہ اور نحوہ میں فرق:
مثل میں الفاظ قریبا یکساں ہوتے ہیں اور نحوہ میں الفاظ میں فرق ہوتا ہے معنی یکساں ہوتا ہے۔
مفردات الحدیث:
(1)
الْحِلْم:
عقل ودانائی اور تحمل و بردباری۔
(2)
الأناة:
ٹھہراؤ،
یا وقار،
جلد بازی سے پرہیز۔
(3)
أشَجّ:
جس کی پیشانی پر زخم ہو۔
فوائد ومسائل:
1- اشج کی تعریف کا پس منظر:
جب عبد القیس کا وفد مدینہ پہنچا تو یہ لوگ فورا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے،
مگر اشج سامان کے پاس رک گیا،
سب سامان اکٹھا کیا،
اونٹ کو باندھا،
پھر کپڑے تبدیل کیے،
اس کے بعد آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس پہنچا،
آپ نے اسے قریب بلایا،
اپنے پہلو میں بٹھایا اور یہ الفاظ کہے کہ تم میں دو ایسی خوبیاں ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں یہ دونوں خوبیاں تمام خوبیوں کی جڑ اور اصل ہیں۔
(2)
مثلہ اور نحوہ میں فرق:
مثل میں الفاظ قریبا یکساں ہوتے ہیں اور نحوہ میں الفاظ میں فرق ہوتا ہے معنی یکساں ہوتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 117]
نصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي