صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب نهي من اكل ثوما او بصلا او كراثا او نحوها عن حضور المسجد:
باب: لہسن، پیاز، گندنا یا کوئی بدبودار چیز کھا کر مسجد میں جانا اس وقت تک ممنوع ہے جب تک اس کی بو منہ سے نہ جائے اور اس کو مسجد سے نکالنا۔
ترقیم عبدالباقی: 564 ترقیم شاملہ: -- 1255
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا: جَمِيعًا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، يُرِيدُ الثُّومَ، فَلَا يَغْشَنَا فِي مَسْجِدِنَا، وَلَمْ يَذْكُرْ: الْبَصَلَ وَالْكُرَّاثَ.
محمد بن بکر اور عبدالرزاق نے (دو مختلف سندوں سے روایت کرتے ہوئے) کہا: ہمیں ابن جریج نے اسی (سابقہ) سند کے ساتھ خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس پودے (آپ کی مراد لہسن سے تھی) میں سے کچھ کھایا ہو وہ ہماری مسجد میں ہمارے پاس نہ آئے۔“ اور انہوں (ابن جریج) نے پیاز اور گندنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1255]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اس پودے (لہسن مراد ہے) سے کھایا وہ ہماری مسجد میں ہمارے پاس نہ آئے۔“ پیاز اور گندنا کا تذکرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1255]
ترقیم فوادعبدالباقی: 564
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبد الرزاق بن همام الحميري ← ابن جريج المكي