علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب الامر بقتال الناس حتى يقولوا لا إله إلا الله محمد رسول الله ويقيموا الصلاة ويؤتوا الزكاة ويؤمنوا بجميع ما جاء به النبي صلى الله عليه وسلم وان من فعل ذلك عصم نفسه وماله إلا بحقها ووكلت سريرته إلى الله تعالى وقتال من منع الزكاة او غيرها من حقوق الإسلام واهتمام الإمام بشعائر الإسلام
باب: جب تک لوگ «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» نہ کہیں ان سے لڑنے کا حکم۔
ترقیم عبدالباقی: 21 ترقیم شاملہ: -- 126
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنِ 3 الْعَلَاءِ . ح وحَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ، حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيُؤْمِنُوا بِي وَبِمَا جِئْتُ بِهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ، عَصَمُوا مِنِّي، دِمَاءَهُمْ، وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ ".
عبدالرحمن بن یعقوب نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی شہادت دیں اور مجھ پر اور جو دین میں لے کر آیا ہوں اس پر ایمان لے آئیں، چنانچہ جب وہ ایسا کر لیں تو انہوں نے میری طرف سے اپنی جان و مال کو محفوظ کر لیا، الا یہ کہ اس شہادت کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 126]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ جاری رکھوں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» کی گواہی دیں، اور مجھ پر اور جو (دین) میں لے کر آیا ہوں، اس پر ایمان لے آئیں، سو جب وہ ایسا کر لیں، تو انہوں نے اپنی جان و مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا سوائے اس کے حق کے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 126]
ترقیم فوادعبدالباقی: 21
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14016)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 126 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 126
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کی شہادت کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آپ کی لائی ہوئی ہدایت ودین پر ایمان لانے کا بھی ذکر موجود ہے،
جو اس بات کا واضح قرینہ اور دلیل ہے کہ "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کی شہادت پورے دین کا عنوان ہے اور "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کے قائم ہونے کا معنی ہے،
دین اسلام کو قبول کرنا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کی شہادت کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آپ کی لائی ہوئی ہدایت ودین پر ایمان لانے کا بھی ذکر موجود ہے،
جو اس بات کا واضح قرینہ اور دلیل ہے کہ "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کی شہادت پورے دین کا عنوان ہے اور "لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ" کے قائم ہونے کا معنی ہے،
دین اسلام کو قبول کرنا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 126]
Sahih Muslim Hadith 126 in Urdu
عبد الرحمن بن يعقوب الجهني ← أبو هريرة الدوسي