صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب النَّهْىِ عَنِ الْحَدِيثِ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
باب: سنی ہوئی بات (بغیر تحقیق کے) کہہ دینا منع ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 5 ترقیم شاملہ: -- 13
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُقَدَّمٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: سَأَلَنِي إِيَاسُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: إِنِّي" أَرَاكَ قَدْ كَلِفْتَ بِعِلْمِ الْقُرْآنِ، فَاقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةً وَفَسِّرْ، حَتَّى أَنْظُرَ فِيمَا عَلِمْتَ، قَالَ: فَفَعَلْتُ، فَقَالَ لِيَ: احْفَظْ عَلَيَّ مَا أَقُولُ لَكَ، إِيَّاكَ وَالشَّنَاعَةَ فِي الْحَدِيثِ، فَإِنَّهُ قَلَّمَا حَمَلَهَا أَحَدٌ، إِلَّا ذَلَّ فِي نَفْسِهِ، وَكُذِّبَ فِي حَدِيثِهِ
سفیان بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ نے مجھ سے مطالبہ کیا اور کہا: میں تمہیں دیکھتا ہوں، تم قرآن کے علم سے شدید رغبت رکھتے ہو، تم میرے سامنے ایک سورت پڑھو، اور اس کی تفسیر کرو، تاکہ جو تمہیں علم ہے میں بھی اسے دیکھوں۔ کہا: میں نے ایسا کیا، تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: جو بات میں تمہیں کہنے لگا ہوں اسے میری طرف سے ہمیشہ یاد رکھنا، ناپسندیدہ (منکر) روایات (کو بیان کرنے) سے بچنا! کیونکہ ایسا نہ ہونے کے برابر ہے، کہ کسی نے یہ کام کیا ہو (منکر روایات بیان کیں) اور وہ اپنی ذات میں ذلیل (نہ) ہوا ہو اور اس کی بیان کردہ حدیث کو جھوٹا (نہ) سمجھا گیا ہو۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 13]
سفیان بن حسین رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھ سے ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ نے کہا: ”میں دیکھتا ہوں تمہیں علمِ قرآن کا شوق ہے، اس کی تعمیل پر فریفتہ ہو، مجھے کوئی سورت سناؤ اور اس کی تفسیر کرو، تاکہ میں اندازہ لگاؤں کہ تم نے کیا سیکھا ہے (تیرے علم کا جائزہ لوں)۔“ تو میں نے ایسا ہی کیا (حکم کی تعمیل کی) تو انہوں نے مجھے کہا: ”میں جو بات تمہیں کہنے لگا ہوں، میری طرف سے اس کو یاد رکھنا، حدیث میں اپنے آپ کو شناعت (قباحت) سے بچانا (یعنی ایسی موضوع، من گھڑت اور منکر احادیث بیان نہ کرنا، جس سے لوگ تمہیں برا سمجھیں)؛ کیونکہ ایسا کام کرنے والا اپنی نظروں میں بھی ذلیل ہوتا ہے اور لوگ بھی اس کی حدیثوں کی تکذیب کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 13]
ترقیم فوادعبدالباقی: 5
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (18442)»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 13 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 13
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
سفیان بن حسینؒ چونکہ تفسیر قرآن کا شائق تھا،
اور مفسرین عام طور پر تفسیری روایات کے بیان کرنے میں سہل اندازی سے کام لیتے ہیں،
ہر قسم کی رطب ویابس روایات بیان کر دیتے ہیں۔
فوائد ومسائل:
سفیان بن حسینؒ چونکہ تفسیر قرآن کا شائق تھا،
اور مفسرین عام طور پر تفسیری روایات کے بیان کرنے میں سہل اندازی سے کام لیتے ہیں،
ہر قسم کی رطب ویابس روایات بیان کر دیتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 13]
Sahih Muslim Hadith 13 in Urdu