🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته:
باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 591 ترقیم شاملہ: -- 1334
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ اسْمُهُ شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا انْصَرَفَ مِنْ صَلَاتِهِ، اسْتَغْفَرَ ثَلَاثًا، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ، وَمِنْكَ السَّلَامُ، تَبَارَكْتَ ذَا الْجَلَالِ وَالإِكْرَامِ "، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ، كَيْفَ الْاسْتِغْفَارُ؟ قَالَ: تَقُولُ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ.
ولید نے اوزاعی سے، انہوں نے ابوعمار (ان کا نام شداد بن عبداللہ ہے) سے، انہوں نے ابواسماء سے اور انہوں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور اس کے بعد کہتے: «اللہم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو ہی سلام ہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے، تو صاحب عظمت و برکت ہے، اے جلال والے اور عزت بخشنے والے! ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: استغفار کیسے کیا جائے؟ انہوں نے کہا: استغفر اللہ، استغفر اللہ کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1334]
حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ بخشش طلب کرتے اور اس کے بعد کہتے: اے اللہ! تو ہی سالم اور تیری ہی طرف سلامتی ملتی ہے تو برکت و عظمت والا ہے، اے بزرگی اور برتری والے۔ ولید کہتے ہیں میں نے اوزاعی سے پوچھا، اِستِغْفَار کیسے ہے؟ اس نے کہا، یوں کہو: (اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ، اَسْتَغْفِرُالّٰلہ)۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1334]
ترقیم فوادعبدالباقی: 591
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥ثوبان بن بجدد القرشي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عمرو بن مرثد الرحبي، أبو أسماء
Newعمرو بن مرثد الرحبي ← ثوبان بن بجدد القرشي
ثقة
👤←👥شداد بن عبد الله القرشي، أبو عمار
Newشداد بن عبد الله القرشي ← عمرو بن مرثد الرحبي
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← شداد بن عبد الله القرشي
ثقة مأمون
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥داود بن رشيد الهاشمي، أبو الفضل
Newداود بن رشيد الهاشمي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1338
إذا انصرف من صلاته استغفر ثلاثا وقال اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام
صحيح مسلم
1334
اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام
جامع الترمذي
300
استغفر الله ثلاث مرات ثم قال اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام
سنن أبي داود
1513
إذا أراد أن ينصرف من صلاته استغفر ثلاث مرات ثم قال اللهم
سنن ابن ماجه
928
إذا انصرف من صلاته استغفر ثلاث مرات ثم يقول اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1334 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1334
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد مُتَّصِلاً (اَللہُ اَکْبَر کہنے کے بعد)
تین دفعہ اَسْتَغْفِرُا للہَ کہتے تھے۔
کیونکہ یہ عبدیت اور بندگی کی انتہا ہے کہ نماز جیسی عبادت کے بعد بھی اپنے آپ کو قصور وار اور حق عبادت کی ادائیگی سے کوتاہ اور عاجز سمجھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے معافی اور بخشش مانگی جائے اور حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا کا اعتراف کیا جائے۔

حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس مختصر دعا جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے آج کل عام طور پر کچھ کلمات:
(وَإِلَيْكَ يَرْجِعُ السَّلاَمْ فَحَيِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلاَمِ وَأَدْخِلْنَا دَارَكَ دَارَ السَّلامِ)
کا اپنے طور پر اضافہ کر لیا جاتا ہے۔
علامہ سعیدی لکھتے ہیں:
حدیث شریف میں دعا اور ذکر کے جو الفاظ وارد ہوں،
ان میں اپنی طرف سے کمی بیشی یا تغیر وتبدل کرنا صحیح نہیں ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دعا سکھائی،
جس میں یہ الفاظ تھے۔
(وَنَبِيِّكَ الَّذي أرْسَلتَ)
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ کلمات دہرا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائے تو یوں پڑھا:
(وَبِرَسُوْلِكَ الَّذِيْ أَرْسَلْتَ)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
لا،
نہیں۔
(وَنَبِيِّكَ الَّذِيْ أرْسَلتَ)
وہی الفاظ پڑھو جو میں نے سکھائے ہیں۔
(ج: 2 ص: 192)
آگے حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ کی عبارت نقل کی ہے جس کا معنی یہ ہے:
الفاظِ ذکر لفظ کے تعین اور ثواب کی مقدار میں توفیقی ہوتے ہیں،
(ان میں منقول کی پابندی کی جاتی ہے)
کیونکہ بسا اوقات ایک لفظ میں ایسا راز ہوتا ہے جو اس کے ہم معنی دوسرے لفظ میں نہیں ہوتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1334]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1338
سلام پھیرنے کے بعد «أستغفراللہ» کہنے کا بیان۔
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہو کر پلٹتے تو تین بار «استغفر اللہ» کہتے، پھر کہتے: «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» اے اللہ! تو سلام ہے، اور تجھ سے ہی تمام کی سلامتی ہے، تیری ذات بڑی بابرکت ہے، اے بزرگی اور عزت والے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1338]
1338۔ اردو حاشیہ:
➊ سلام پھیرنے کے بعد استغفار کرنا مستحب ہے۔
➋ اس حدیث مبارکہ سے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے رب کے سامنے کمال عاجزی اور اظہار بندگی کا اثبات ہوتا ہے باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تمام لغزشیں معاف کر دی تھیں۔
➌ بندے کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ میں اطاعت میں کامل ہوں بلکہ اسے یہی سمجھنا چاہیے کہ میرے اطاعت کرنے میں نقص ہے، میں نے عبادت کا حق ادا نہیں کیا، اسے استغفار کے ساتھ اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔
بابرکت ہے یعنی تیرے پاس کسی چیز کی کمی نہیں، کثرت ہی کثرت ہے۔ یا جہاں تیرا ذکر ہو، وہاں برکت ہوتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1338]

حافظ عمران ايوب لاهوري حفظہ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجہ 928
فرض نماز کے بعد اذکار سلام پھیرنے کے بعد کے اذکار
➊ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
«كنت أعرف انقضاء صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بالتكبير»
مجھے «الله اكبر» کے ساتھ علم ہوتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ختم ہو گئی ہے۔
[بخاري: 841 - 842، كتاب الأذان: باب الذكر بعد الصلاة]
یاد رہے کہ نماز کے فورا بعد اونچی آواز سے «لا اله الا الله» کا ورد کرنا کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔
➋ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ «استَغفِرُ الله» کہتے پھر کہتے:
«اللهم اَنْتَ السَّلَامُ وَمِنكَ السّلامُ وَتَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرَامِ -»
[مسلم: 591، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: باب استحباب الذكر بعد الصلاة، أبو داود: 68/3، ابن ماجة: 928، أحمد: 275/5، أبو عوانة: 242/2، دارمي: 311/1، ابن خزيمة: 737، ابن حبان: 2003]
واضح رہے کہ اس دعا میں ان الفاظ کا اضافہ:
«وَإِلَيْكَ يَرْجِعُ السَّلَامُ حَيْنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ وَأَدْخِلْنَا دَارَ السَّلَامِ»
کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔

➌ حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد کہتے:
«رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ»
[مسلم: 709، كتاب صلاة المسافرين وقصرها: باب استحباب يمين الإمام]
➍ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی کہ یہ کلمات ہر نماز کے بعد ہرگز نہ چھوڑنا:
«اللَّهُمَّ أَعِنِّى عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ -»
[صحيح: صحيح أبو داود: 1347، كتاب الصلاة: باب فى الاستغفار أبو داود: 1522، نسائي: 53/3]
➎ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی اسے جنت میں داخلے سے سوائے موت کے کسی چیز نے نہیں روکے رکھا۔
[صحيح: الصحيحة: 972، 697/2، نسائي: 30/6، 9928، طبراني كبير: 134/8، مجمع الزوائد: 148/2]
جس روایت میں مذکور ہے کہ جس نے فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی:
«كان فى ذمة الله إلى الصلاة الأخرى»
وہ اگلی نماز تک اللہ کے ذمہ میں ہو گا۔ وہ روایت ضعیف ہے۔ [ضعيف: الضعيفة: 5135، تمام المنة: ص/227]
➏ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے مجھے ہر نماز کے بعد معوذات (یعنی «سورة الفلق، سورة الناس» اور «سورة الاخلاص» ) پڑھنے کا حکم دیا۔
[صحيح: صحيح أبو داود: 1348، كتاب الصلاة: باب فى الاستغفار، ترمذي: 2903، نسائي: 68/3، أحمد: 155/4، حاكم: 253/1]
➐ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے۔
«لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْئي قَدِيرٌ، اللَّهُمْ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدْ مِنكَ الْجَدُّ .»
[بخارى: 844، كتاب الأذان: باب الذكر بعد الصلاة، مسلم: 593، أبو داود: 1505، نسائي: 70/3، أبو عوانہ: 243/2، ابن أبى شيبة: 231/10، دارمي: 311/1، ابن خزيمة: 742]
➑ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے:
«لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَى قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ۚ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ وَلَهُ الثَّنَا الْحَسَنُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ»
[مسلم: 594، كتاب المساجد ومواضع الصلاة: باب استحباب الذكر بعد الصلاة، أبو داود: 741، نسائی: 69/3، ابن أبى شيبة: 232/10، أبو عوانة: 246/2، ابن خزيمة: 741، بيهقى: 185/2، ابن حبان: 2008]
➒ جو شخص (ہر نماز کے بعد) تینتیس (33) مرتبہ «سبحان الله» ، تینتیس (33) مرتبہ «الله اكبر» اور تینتیس (33) مرتبہ «الحمد لله» اور سو (100) کا عدد پورا کرنے کے لیے ایک مرتبہ «لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلكُ وَلَهُ الحَمدُ وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْء قَدِيرٌ» پڑھے گا اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے خواہ سمندر کی جھاگ کے ہی برابر کیوں نہ ہوں۔
[مسلم: 597، أيضا، أحمد: 371/2]
ایک روایت میں سو کا عدد پورا کرنے کے لیے چونتیس (34) مرتبہ «الله اكبر» کہنے کا ذکر ہے۔ [مسلم: 596]
ایک دوسری روایت میں دس (10) مرتبہ «سبحان الله» دس (10) مرتبہ «الله اكبر» اور دس (10) مرتبہ «الحمد لله» کہنے کا بھی ذکر ہے۔
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 754، المشكاة: 2406، أبو داود: 5065، ترمذي: 3410، ابن ماجة:، عبد الرزاق 3189]
➓ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نماز کے بعد ان اشیاء سے پناہ مانگا کرتے تھے:
«اللَّهُمْ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أنْ أُرَدَّ إِلَى أَرْذَلِ الْعُمُرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الدُّنيا وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .»
[بخاري: 2822، كتاب الجهاد والسير: باب ما يتعوذ من الجنب، نسائي: 256/8، ترمذي: 3567، ابن حبان: 1004، شرح السنة: 34/2]
⓫ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے سلام پھیرنے کے بعد یہ دعا پڑھتے:
«اللَّهُمْ إِنِّي أَسْتَلْكَ عِلْمًا نافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلاً»
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 753، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها: باب ما يقال بعد التسليم، ابن ماجة: 925، أحمد: 294/6، حميدي: 299] ⓬ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز فجر با جماعت ادا کی، پھر طلوع آفتاب تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھا رہا ِ، پھر سورج نکلنے کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے ایک مکمل حج اور عمرے کے برابر ثواب ہے۔
[حسن: صحيح ترمذي: 480، كتاب الجمعة: باب ذكر ما يستحب من الجلوس فى المسجد، المشكاة: 971، ترمذي: 586]
[فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 420]

Sahih Muslim Hadith 1334 in Urdu