الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفته:
باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
ترقیم عبدالباقی: 594 ترقیم شاملہ: -- 1344
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَوْلًى لَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، كَانَ يُهَلِّلُ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.
عبدہ بن سلیمان نے ہشام بن عروہ سے اور انہوں نے اپنے خاندان کے مولیٰ ابوزبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد بلند آواز سے پڑھتے تھے (آگے ابن نمیر کی روایت کے مانند ہے اور انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا: پھر ابن زبیر کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد ان (کلمات) کو بلند آواز سے کہتے تھے۔) [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1344]
حضرت ابو زبیر رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللّٰہ بن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہما ہر نماز کے بعد کلمات تہلیل کہتے تھے جیسا کہ ابن نمیر کی روایت میں ہے اور آخر میں کہا، ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1344]
ترقیم فوادعبدالباقی: 594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
عبد الله بن الزبير الأسدي ← عبد الله بن الزبير الأسدي