صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
36. باب الدليل لمن قال الصلاة الوسطى هي صلاة العصر:
باب: اس بات کی دلیل کہ نماز وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 628 ترقیم شاملہ: -- 1426
وحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، أَوِ اصْفَرَّتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا، أَوَ قَالَ: حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا.
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مشرکوں نے (جنگ میں مشغول رکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے ہمیں درمیانی نماز، عصر کی نماز سے مشغول رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں میں آگ بھر دے۔“ یا فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔“ (ملأ کی جگہ حشا کا لفظ ارشاد فرمایا، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔) فائدہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں نماز عصر کی اہمیت کس قدر تھی، ان احادیث سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نیز یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف میں سنگ باری برداشت کی لیکن بد دعا نہ دی، احد میں جسم مبارک زخمی ہوا، دندان مبارک شہید ہوئے، ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جام شہادت نوش کیا جن میں آپ کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن بد دعا نہ دی۔ جنگ خندق میں ناز عصر فوت ہو گئی تو کافروں کو بد دعا دی۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ نفع و نقصان کا یہی معیار پیش نظر رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1426]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز سے مشغول رکھا، یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (عصر کی نماز) سے مشغول رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے“، یا فرمایا: «مَلَأَ اللهُ» کی بجائے «حَشَا اللهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا» فرمایا۔ «مَلَأَ» اور «حَشَا» دونوں کا معنی ”بھرنا“ ہے، «أَجْوَاف» اور «بُطُون» ”پیٹوں“ کو کہتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1426]
ترقیم فوادعبدالباقی: 628
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1426
| شغلونا عن الصلاة الوسطى صلاة العصر ملأ الله أجوافهم وقبورهم نارا أو قال حشا الله أجوافهم وقبورهم نارا |
سنن ابن ماجه |
686
| حبسونا عن صلاة الوسطى ملأ الله قبورهم وبيوتهم نارا |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1426 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1426
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے نماز کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شغف اور شوق کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے تاخیر سے پڑھنے کا اتنا رنج اور قلق ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا باعث بننے والے مشرکوں کے خلاف دعا کی حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کی وادیوں میں پیغام توحید سنانے پر لہولہان کرنے،
دل آزار باتیں کہنے اور غنڈوں اور اوباشوں کے آوازیں کسنے پر ان کے خلاف دعا نہیں کی تھی،
اس طرح مشرکوں کے ہر قسم کے ظلم و ستم روا رکھنے پر ان کے خلاف دعا نہیں کی۔
لیکن غزوہ خندق کے موقعہ پر نماز کا وقت نکل جانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا لیکن آج ہماری حالت کیا ہے؟ بلا وجہ اور بلا عذر نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔
(2)
غزوہ خندق تک نماز خوف (جنگ کی نماز)
کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ والی نماز نہیں پڑھی تھی اور ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ الصلوۃ الوسطی کےمراد نماز عصر ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے نماز کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شغف اور شوق کا اظہار ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے تاخیر سے پڑھنے کا اتنا رنج اور قلق ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا باعث بننے والے مشرکوں کے خلاف دعا کی حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کی وادیوں میں پیغام توحید سنانے پر لہولہان کرنے،
دل آزار باتیں کہنے اور غنڈوں اور اوباشوں کے آوازیں کسنے پر ان کے خلاف دعا نہیں کی تھی،
اس طرح مشرکوں کے ہر قسم کے ظلم و ستم روا رکھنے پر ان کے خلاف دعا نہیں کی۔
لیکن غزوہ خندق کے موقعہ پر نماز کا وقت نکل جانے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا لیکن آج ہماری حالت کیا ہے؟ بلا وجہ اور بلا عذر نمازیں چھوڑ دیتے ہیں اور ہمیں احساس تک نہیں ہوتا۔
(2)
غزوہ خندق تک نماز خوف (جنگ کی نماز)
کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ والی نماز نہیں پڑھی تھی اور ان احادیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ الصلوۃ الوسطی کےمراد نماز عصر ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1426]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث686
نماز عصر کی محافظت۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز سے روکے رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 686]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مشرکوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج ڈوب گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز سے روکے رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الصلاة/حدیث: 686]
اردو حاشہ:
(1)
اس سے معلوم ہو کہ درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے جس کی تاکید قرآن مجید میں ان الفاظ میں وارد ہے:
﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ ﴾ (البقره: 238/2)
نمازوں کی حفاظت کرواور(خاص طور پر)
درمیانی نماز کی۔
(2)
نماز سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا حملہ جاری رہا جس کی وجہ سے ہم لوگ جنگ میں مشغول رہے اور نماز پڑھنے کا موقع نہ ملا۔
(3)
جہاد ایک عظیم عمل ہے جسے حدیث میں بجا طور پر اسلام کے کوہان کی بلندی فرمایا گیا ہے۔ (جامع الترمذی، الایمان، باب ماجاء فی حرمة الصلوۃ، حدیث: 2612)
لیکن جہاد کے اس عظیم ترین عمل میں مشغولیت بھی نماز چھوڑنے کا جواز نہیں بن سکتی۔
نماز کی اہمیت جہاد سے بھی بڑھ کر ہے۔
(1)
اس سے معلوم ہو کہ درمیانی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے جس کی تاکید قرآن مجید میں ان الفاظ میں وارد ہے:
﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ ﴾ (البقره: 238/2)
نمازوں کی حفاظت کرواور(خاص طور پر)
درمیانی نماز کی۔
(2)
نماز سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا حملہ جاری رہا جس کی وجہ سے ہم لوگ جنگ میں مشغول رہے اور نماز پڑھنے کا موقع نہ ملا۔
(3)
جہاد ایک عظیم عمل ہے جسے حدیث میں بجا طور پر اسلام کے کوہان کی بلندی فرمایا گیا ہے۔ (جامع الترمذی، الایمان، باب ماجاء فی حرمة الصلوۃ، حدیث: 2612)
لیکن جہاد کے اس عظیم ترین عمل میں مشغولیت بھی نماز چھوڑنے کا جواز نہیں بن سکتی۔
نماز کی اہمیت جہاد سے بھی بڑھ کر ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 686]
Sahih Muslim Hadith 1426 in Urdu
مرة الطيب ← عبد الله بن مسعود