صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
43. باب يجب إتيان المسجد على من سمع النداء:
باب: جو اذان سنتا ہے اس پر مسجد میں پہنچنا لازم ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 653 ترقیم شاملہ: -- 1486
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ كلهم، عَنْ مَرْوَانَ الْفَزَارِيِّ ، قَالَ قُتَيْبَةُ: حَدَّثَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَصَمِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الأَصَمِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، رَجُلٌ أَعْمَى، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ، فَرَخَّصَ لَهُ، فَلَمَّا وَلَّى، دَعَاهُ، فَقَالَ: " هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَجِبْ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی لانے والا نہیں جو (ہاتھ سے پکڑ کر) مجھے مسجد میں لے آئے۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ اسے اجازت دی جائے کہ وہ اپنے گھر میں نماز پڑھ لے۔ آپ نے اسے اجازت دے دی، جب وہ واپس ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا تم نماز کا بلاوا (اذان) سنتے ہو؟“ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ”تو اس پر لبیک کہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1486]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک نابینا آدمی حاضر ہوا اور عرض کیا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے مسجد میں لانے والا کوئی آدمی نہیں ہے تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی۔ کہ اسے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت مرحمت فرمائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی جب اس نے پشت پھیر لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: ”کیا تم نماز کے لیے بلاوا سنتے ہو؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے قبول کرو، یعنی نماز کے لیے آؤ۔“ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1486]
ترقیم فوادعبدالباقی: 653
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1486 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1486
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا تقاضا اور مفاد یہی ہے،
کہ اس انسان کو نماز باجماعت کا اہتمام کرنا چاہیے جو مسجد میں آ سکتا ہے۔
اگرچہ اسے نابینا آدمی کی طرح محنت و مشقت برداشت کر کے آنا پڑے اگر جماعت چھوڑنے کی رخصت مل سکتی تو نابینا انسان جس کو لانے والا بھی موجود نہ ہو اس کا سب سے زیادہ حقدار تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی اجازت نہیں دی۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا تقاضا اور مفاد یہی ہے،
کہ اس انسان کو نماز باجماعت کا اہتمام کرنا چاہیے جو مسجد میں آ سکتا ہے۔
اگرچہ اسے نابینا آدمی کی طرح محنت و مشقت برداشت کر کے آنا پڑے اگر جماعت چھوڑنے کی رخصت مل سکتی تو نابینا انسان جس کو لانے والا بھی موجود نہ ہو اس کا سب سے زیادہ حقدار تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بھی اجازت نہیں دی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1486]
يزيد بن الأصم العامري ← أبو هريرة الدوسي