صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
45. باب النهي عن الخروج من المسجد إذا اذن المؤذن:
باب: مؤذن جب اذان دے تو مسجد سے نکلنے کی ممانعت۔
ترقیم عبدالباقی: 655 ترقیم شاملہ: -- 1489
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، قَالَ: " كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَأَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْمَسْجِدِ يَمْشِي، فَأَتْبَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ بَصَرَهُ، حَتَّى خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَمَّا هَذَا، فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ابراہیم بن مہاجر نے ابوشعثاء سے روایت کی، کہا: ہم مسجد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان کہی، ایک آدمی مسجد سے اٹھ کر چل پڑا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مسلسل اس پر نظر رکھی حتی کہ وہ مسجد سے نکل گیا، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ شخص، یقیناً اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1489]
ابو شعثاء بتاتے ہیں کہ ہم مسجد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ مؤذن نے اذان دے دی تو ایک آدمی مسجد سے اٹھ کر چلنے لگا، حضرت ابو ہریرہ ؓ نے اس پر اپنی نظریں جما دیں حتیٰ کہ وہ مسجد سے نکل گیا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اس آدمی نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساجد ومواضع الصلاة/حدیث: 1489]
ترقیم فوادعبدالباقی: 655
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1489 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1489
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جب انسان مسجد میں موجود ہو تو بلا کسی ضرورت اور بغیر کسی عذر کے جماعت چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے ہاں اگر کسی نے دوسری جگہ جماعت کرانی ہے یا مسجد میں پانی نہیں ہے اور پیشاب و پاخانہ کی حاجت ہے یا وضو کر کے واپس آنے کی نیت ہے تو پھر وہ مسجد سے نکل سکتا ہے۔
فوائد ومسائل:
جب انسان مسجد میں موجود ہو تو بلا کسی ضرورت اور بغیر کسی عذر کے جماعت چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے ہاں اگر کسی نے دوسری جگہ جماعت کرانی ہے یا مسجد میں پانی نہیں ہے اور پیشاب و پاخانہ کی حاجت ہے یا وضو کر کے واپس آنے کی نیت ہے تو پھر وہ مسجد سے نکل سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1489]
سليم بن أسود المحاربي ← أبو هريرة الدوسي