صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
15. باب بيان خصال من اتصف بهن وجد حلاوة الإيمان:
باب: ان خصلتوں کا بیان جن سے ایمان کی حلاوت حاصل ہوتی ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 43 ترقیم شاملہ: -- 167
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا.
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ... (پھر اسی طرح بیان کیا) جیسے سابقہ راویوں نے بیان کیا ہے، البتہ انہوں نے یہ (الفاظ) کہے:”اس کو پھر سے یہودی یا عیسائی ہو جانے سے (آگ میں ڈالا جانا زیادہ پسند ہو۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 167]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اوپر والی حدیث ہی ہے، صرف اتنا فرق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی اور عیسائی ہو جانے سے آگ میں ڈالا جانا زیادہ پسند ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 167]
ترقیم فوادعبدالباقی: 43
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (342)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥النضر بن شميل المازني، أبو الحسن النضر بن شميل المازني ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت | |
👤←👥إسحاق بن منصور الكوسج، أبو يعقوب إسحاق بن منصور الكوسج ← النضر بن شميل المازني | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 167 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 167
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
حلاوت ایمانی:
جس طرح انسان شریں اور میٹھی غذاؤں او ر مٹھائیوں سے مٹھاس اور شیرینی محسوص کرتا ہے اور اس ذائقہ ولذت کی بنا پر ان کی طرف شوق ورغبت رکھتا ہے اور اس سے فرحت وانبساط پاتا ہے،
اس طرح ان خوبیوں سے متصف انسان کو دینی امور کی اطاعت وفرمانبرداری سے اسے لذت وفرحت حاصل ہوتی ہے،
ان کی سرا نجام دہی کی طرف رغبت اور شوق ہوتا ہے اور تعمیل حکم کے بعد خوشی اور مسرت حاصل ہوتی ہے۔
(2)
اس حدیث میں تین چیزوں کا تذکرہ کیا گیا ہے،
ان تینوں کا مرکز ومرجع اللہ تعالیٰ کی محبت ہے،
کیونکہ محبت کے تمام اسباب وجوہ (جن کا تذکرہ جلد ہوگا)
بدرجہ اتم اللہ تعالیٰ میں جمع ہیں،
اس لیے محبت دراصل اسی سے ہونی چاہیے اور رسول سے محبت اسی کا نمائندہ اور محبوب ہونے کی وجہ سے ہے اور ان سے محبت،
نیک بندوں سے محبت کی بنیادہ ہے،
اسی وجہ سے اسلام محبوب وپسندیدہ ہے،
اور کفر نا پسندیدہ ومکروہ۔
اللہ اور اس کے رسول سے محبت کی علامت ونشانی ان کی اطاعت وفرمانبردای اور ان کی مخالفت سے نفرت او دوری ہے۔
فوائد ومسائل:
(1)
حلاوت ایمانی:
جس طرح انسان شریں اور میٹھی غذاؤں او ر مٹھائیوں سے مٹھاس اور شیرینی محسوص کرتا ہے اور اس ذائقہ ولذت کی بنا پر ان کی طرف شوق ورغبت رکھتا ہے اور اس سے فرحت وانبساط پاتا ہے،
اس طرح ان خوبیوں سے متصف انسان کو دینی امور کی اطاعت وفرمانبرداری سے اسے لذت وفرحت حاصل ہوتی ہے،
ان کی سرا نجام دہی کی طرف رغبت اور شوق ہوتا ہے اور تعمیل حکم کے بعد خوشی اور مسرت حاصل ہوتی ہے۔
(2)
اس حدیث میں تین چیزوں کا تذکرہ کیا گیا ہے،
ان تینوں کا مرکز ومرجع اللہ تعالیٰ کی محبت ہے،
کیونکہ محبت کے تمام اسباب وجوہ (جن کا تذکرہ جلد ہوگا)
بدرجہ اتم اللہ تعالیٰ میں جمع ہیں،
اس لیے محبت دراصل اسی سے ہونی چاہیے اور رسول سے محبت اسی کا نمائندہ اور محبوب ہونے کی وجہ سے ہے اور ان سے محبت،
نیک بندوں سے محبت کی بنیادہ ہے،
اسی وجہ سے اسلام محبوب وپسندیدہ ہے،
اور کفر نا پسندیدہ ومکروہ۔
اللہ اور اس کے رسول سے محبت کی علامت ونشانی ان کی اطاعت وفرمانبردای اور ان کی مخالفت سے نفرت او دوری ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 167]
Sahih Muslim Hadith 167 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري