🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب النهى عن الرواية عن الضعفاء والاحتياط في تحملها
باب: ضعیف راویوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت لینے میں احتیاط برتنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 7 ترقیم شاملہ: -- 19
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَعِيدٌ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: جَاءَ هَذَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي بُشَيْرَ بْنَ كَعْبٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ:" عُدْ لِحَدِيثِ كَذَا وَكَذَا، فَعَادَ لَهُ، ثُمَّ حَدَّثَهُ، فَقَالَ لَهُ: عُدْ لِحَدِيثِ كَذَا وَكَذَا، فَعَادَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَا أَدْرِى، أَعَرَفْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ وَأَنْكَرْتَ هَذَا، أَمْ أَنْكَرْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ وَعَرَفْتَ هَذَا؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا كُنَّا نُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ لَمْ يَكُنْ يُكْذَبُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ، تَرَكْنَا الْحَدِيثَ عَنْهُ
محمد بن عباد، سعید بن عمر، اشعثیٰ، ابن عیینہ، سعید، سفیان، ہشام بن جحیر نے طاؤس سے روایت کی، کہا: یہ (ان کی مراد بشیر بن کعب سے تھی) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور انہیں حدیثیں سنانے لگا، ابن عباس رضی اللہ عنہما اس سے کہا: فلاں فلاں حدیث دہراؤ۔ اس نے دہرا دیں، پھر ان کے سامنے احادیث بیان کیں۔ انہوں نے اس سے کہا: فلاں حدیث دوبارہ سناؤ۔ اس نے ان کے سامنے دہرائیں، پھر آپ سے عرض کی: میں نہیں جانتا کہ آپ نے میری (بیان کی ہوئی) ساری احادیث پہچان لی ہیں اور اس حدیث کو منکر جانا ہے یا سب کو منکر جانا ہے اور اسے پہچان لیا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں بولا جاتا تھا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احادیث بیان کرتے تھے، پھر جب لوگ (ہر) مشکل اور آسان سواری پر سوار ہونے لگے (بلا تمیز صحیح وضعیف روایات بیان کرنے لگے) تو ہم نے (براہ راست) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنا ترک کر دیا۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 19]
امام طاؤس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، یہ بشیر بن کعب رحمہ اللہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہو کر انھیں حدیثیں سنانے لگا، چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے کہا: فلاں فلاں حدیث دوبارہ سناؤ! اس نے انھیں دوبارہ سنا دیں۔ پھر انھیں کہا: میں نہیں جانتا آپ نے میری تمام حدیثیں پہچان لی ہیں (ان کی تصدیق اور تائید کرتے ہیں) اور اس کا انکار کیا ہے (منکر ہونے کی وجہ سے دوبارہ سنا ہے)، یا میری تمام احادیث کو آپ نے منکر سمجھا ہے اور اس کو پہچان لیا ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا جاتا تھا، تو ہم (بلا جھجک اور بلا خوف خطر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں بیان کرتے تھے، لیکن جب لوگوں نے ہر قسم کے دشوار گزار اور پامال شدہ اور چلے ہوئے راستے پر چلنا شروع کر دیا (صحیح اور ضعیف کو بیان کرنا شروع کر دیا) تو ہم نے آپ سے حدیث بیان کرنا چھوڑ دیا۔ (یعنی صرف وہی حدیثیں بیان کرتے ہیں جن کی صحت کا ہمیں علم ہے اور وہی حدیثیں سنتے ہیں جن سے ہم آگاہ ہیں)۔ [صحيح مسلم/مقدمة/حدیث: 19]
ترقیم فوادعبدالباقی: 7
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم كما في ((التحفة)) برقم (5759)» ‏‏‏‏

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

صحیح مسلم کی حدیث نمبر 19 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 19
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عباسؓ کا مقصد تھا،
جب لوگوں میں قوت امتیاز ختم ہوگئی ہے اور انہوں نے ہر قسم کی حدیثوں کو قبول کرنا شروع کر دیا ہے،
ان میں کمی وبیشی کی،
انہیں کوئی پرواہ نہیں ہے،
تو ہم نے عام لوگوں کو حدیث سنانی چھوڑدی ہے،
صرف قابل اعتماد لوگوں کو سناتے ہیں،
جن کے حفظ وضبط پر ہمیں اعتماد ہو اور قابل اعتماد لوگوں کی احادیث ہی ہم سنتے ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 19]

Sahih Muslim Hadith 19 in Urdu