علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
13. باب تخفيف الصلاة والخطبة:
باب: نماز اور خطبہ مختصر پڑھانے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 868 ترقیم شاملہ: -- 2008
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، كلاهما، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى وَهُوَ أَبُو هَمَّامٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضِمَادًا قَدِمَ مَكَّةَ وَكَانَ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ، وَكَانَ يَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ، فَسَمِعَ سُفَهَاءَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يَقُولُونَ: إِنَّ مُحَمَّدًا مَجْنُونٌ، فَقَالَ: لَوْ أَنِّي رَأَيْتُ هَذَا الرَّجُلَ لَعَلَّ اللَّهَ يَشْفِيهِ عَلَى يَدَيَّ، قَالَ: فَلَقِيَهُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ، وَإِنَّ اللَّهَ يَشْفِي عَلَى يَدِي مَنْ شَاءَ، فَهَلْ لَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ "، قَالَ: فَقَالَ: أَعِدْ عَلَيَّ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ، فَأَعَادَهُنَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ، وَقَوْلَ السَّحَرَةِ، وَقَوْلَ الشُّعَرَاءِ، فَمَا سَمِعْتُ مِثْلَ كَلِمَاتِكَ هَؤُلَاءِ، وَلَقَدْ بَلَغْنَ نَاعُوسَ الْبَحْرِ، قَالَ: فَقَالَ: هَاتِ يَدَكَ أُبَايِعْكَ عَلَى الْإِسْلَامِ، قَالَ: فَبَايَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَعَلَى قَوْمِكَ "، قَالَ: وَعَلَى قَوْمِي، قَالَ: فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَمَرُّوا بِقَوْمِهِ، فَقَالَ صَاحِبُ السَّرِيَّةِ لِلْجَيْشِ: هَلْ أَصَبْتُمْ مِنْ هَؤُلَاءِ شَيْئًا؟ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَصَبْتُ مِنْهُمْ مِطْهَرَةً، فَقَالَ رُدُّوهَا فَإِنَّ هَؤُلَاءِ قَوْمُ ضِمَادٍ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضماد مکہ آیا، وہ (قبیلہ) ازد شنوء سے تھا اور آسیب کا دم کیا کرتا تھا (جسے لوگ ریح کہتے تھے، یعنی ایسی ہوا جو نظر نہیں آتی، اثر کرتی ہے) اس نے مکہ کے بے وقوفوں کو یہ کہتے سنا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جنون ہو گیا ہے (نعوذ باللہ) اس نے کہا: اگر میں اس آدمی کو دیکھ لوں تو شاید اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھوں شفا بخش دے۔ کہا: وہ آپ سے ملا اور کہنے لگا: اے محمد! میں اس نظر نہ آنے والی بیماری (ریح) کو زائل کرنے کے لیے دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھوں شفا بخشتا ہے تو آپ کیا چاہتے ہیں (کہ میں دم کروں؟) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جواب میں) کہا: ”ان الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ من یہدہ اللہ فلا مضل لہ ومن یضلل فلا ہادی لہ واشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ وان محمدا عبدہ ورسولہ اما بعد“ یقیناً تمام حمد اللہ کے لیے ہے، ہم اسی کی حمد کرتے ہیں اور اسی سے مدد مانگتے ہیں، جس کو اللہ سیدھی راہ پر چلائے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ چھوڑ دے، اسے کوئی راہ راست پر نہیں لا سکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں، وہی اکیلا (معبود) ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور بلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے، اس کے بعد! کہا: وہ بول اٹھا: اپنے یہ کلمات مجھے دوبارہ سنائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہ کلمات اس کے سامنے دہرائے۔ اس پر اس نے کہا: میں نے کاہنوں، جادوگروں اور شاعروں (سب) کے قول سنے ہیں، میں نے آپ کے ان کلمات جیسا کوئی کلمہ (کبھی) نہیں سنا، یہ تو بحر (بلاغت) کی تہ تک پہنچ گئے ہیں اور کہنے لگا: ہاتھ بڑھایئے! میں آپ کے ساتھ اسلام پر بیعت کرتا ہوں۔ کہا: تو اس نے آپ کی بیعت کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تیری (طرف سے تیری) قوم (کے اسلام) پر بھی (تیری بیعت لیتا ہوں)“ اس نے کہا: اپنی قوم (کے اسلام) پر بھی (بیعت کرتا ہوں) اس کے بعد آپ نے ایک سریہ (چھوٹا لشکر) بھیجا، وہ ان کی قوم کے پاس سے گزرے تو امیر لشکر نے لشکر سے پوچھا: کیا تم نے ان لوگوں سے کوئی چیز لی ہے؟ تو لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: میں نے ان سے ایک لوٹا لیا ہے اس نے کہا: اسے واپس کر دو کیونکہ یہ (کوئی اور نہیں بلکہ) ضماد کی قوم ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2008]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ازد شنوء قبیلہ کا فرد ضماد مکہ آیا وہ آسیب کا دم کرتا تھا اس نے مکہ کے بے وقوف اور کم عقل لوگوں سے سنا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) دیوانہ ہے تو اسنے دل میں کہا، اگر میں اس آدمی کو دیکھ لوں تو شاید اللہ تعالیٰ اسے میرے ہاتھوں شفا بخش دے، اس کے لیے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں جنات کے اثر زائل کرنے کے لیے دم کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے میرے ہاتھوں شفا بخشتا ہے، تو کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خواہش رکھتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ حمد و شکر کا حقدار اللہ ہے، ہم اس کی تعریف کرتے ہیں اور اس سے مدد کے طالب ہیں جس کو اللہ راہ راست پر چلا دے، اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا اور جسے وہ گمراہ چھوڑ دے اسے کوئی راہ راست پر نہیں چلا سکتا اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے کہ اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے حمد و شہادت کے بعد“ اس(ضماد) نے کہا، مجھے یہ کلمات دوبارہ سنائیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلمات اسے تین دفعہ سنائے یا ان کلمات کا اس کے سامنے تین دفعہ اعادہ کیا، تو ا س نے کہا میں نے کاہنوں کا قول، جادوگروں کا قول اور شاعروں کا قول (سب کو) سنا ہے۔ میں نے تیرے ان کلمات جیسا قول نہیں سنا۔ یہ تو دریائے بلاغت کی تہہ تک پہنچ گئے ہیں اور کہنے لگا ہاتھ بڑھائیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسلام کی خاطر بیعت کرتا ہوں۔ تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کرلی۔ رسل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیری قوم کی طرف بھی بیعت لیتا ہوں “ اس نے کہا: اپنی قوم کی طرف سے بھی بیعت کرتا ہوں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سریہ (چھوٹا لشکر) بھیجا، وہ ضماد کی قوم کے پاس سے گزرے، تو امیر لشکر نے کہا۔ کیا تم نے ان لوگوں سے کوئی چیز لی ہے؟ ایک لشکری نے کہا، میں نے ان سے ایک لوٹا لیا ہے۔ تو اس نے کہا اسے واپس کر دو کیونکہ یہ لوگ ضماد کی قوم ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2008]
ترقیم فوادعبدالباقی: 868
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3280
| الحمد لله نحمده ونستعينه من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل الله فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد |
صحيح مسلم |
2008
| الحمد لله نحمده ونستعينه من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله أما بعد |
سنن ابن ماجه |
1893
| الحمد لله نحمده ونستعينه ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أما بعد |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2008 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، صحیح مسلم 2008
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درج ذیل خطبہ مطلقاً ثابت ہے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَحْمَدُهُ وَ نَسْتَعِيْنُهُ، مَنْ يَّهْدِهِ اللهُ فَلاَ مُضِلَّ لَهُ وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَلاَ هَادِيَ لَهُ، وَ أَشْهَدُ أَن لاَّ إِلٰهَ إِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَ (أَشْهَدُ) أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَ رَسُوْلُهُ، أَمَّا بَعْدُ:» [صحيح مسلم: 868، سنن النسائي 6/ 89۔ 90 ح 3280 وسنده صحيح والزيادة منه]
«فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ اللهِ، وَ خَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَ شَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا وَ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ» [صحيح مسلم: 867]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں تشہد نہ ہو، اُس ہاتھ کی طرح ہے جو جذام زدہ (یعنی عیب دار اور ناقص) ہے۔ [سنن ابي داود: 4841، وسنده صحيح وصححه الترمذي: 1106، و ابن حبان: 1994، 579]
تشہد سے مراد کلمۂ شہادت ہے۔ دیکھئے: [عون المعبود 4/ 409]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 75 صفحہ 17 اور علمی مقالات جلد 3 صفحہ 157
«فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيْثِ كِتَابُ اللهِ، وَ خَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَ شَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُهَا وَ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ» [صحيح مسلم: 867]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں تشہد نہ ہو، اُس ہاتھ کی طرح ہے جو جذام زدہ (یعنی عیب دار اور ناقص) ہے۔ [سنن ابي داود: 4841، وسنده صحيح وصححه الترمذي: 1106، و ابن حبان: 1994، 579]
تشہد سے مراد کلمۂ شہادت ہے۔ دیکھئے: [عون المعبود 4/ 409]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھیں . . .
ماہنامہ الحدیث شمارہ 75 صفحہ 17 اور علمی مقالات جلد 3 صفحہ 157
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 157]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2008
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
1۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے کلمات اس قدر جامع اور پرتاثیر ہیں کہ ایک صاحب دانش وبینش،
ان کلمات کو سن کر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حقانیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا قائل ہوجاتا ہے۔
بشرط یہ کہ وہ ان کلمات کے معانی اور مطالب کو سمجھتا ہو اور صاحب فکر اور اہل نظرہو۔
2۔
ضماد کا تصور یہ تھا کہ جنون ودیوانگی آسیبی مرض ہے جو جنات کی چھوت سے پیدا ہوتا ہے اس لیے اس نےکہا:
(إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ)
”میں جنات کے اثر کو دم سے زائل کرتا ہوں“ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رغبت اور خواہش رکھتے ہوں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دم کردیتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خطبہ کے کلمات سنائے تاکہ اسے پتہ چل سکے کہ اس افواہ میں حقیقت کتنی ہے اور افسانہ کتنا ہے۔
اس نے یہ کلمات سن کر تجزیہ وتحلیل کر کے بتا دیا کہ فن گفتگو کا کوئی ماہر اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچتا۔
ناموس البحر سمندر کی تہہ اور اس کی گہرائی کو کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں تو کمال درجہ کی فصاحت وبلاغت ہے۔
اس درجہ تک تو اس میدان کا کوئی شاہسوار نہیں پہنچ سکتا۔
3۔
جاہلیت کے دستور اوراصول کے مطابق کہ ہرقبیلہ اور ہر قوم اپنے سردار کے پیچھے چلتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضماد کے اسلام لانے کو پوری قوم کے اسلام لانے کا پیش خیمہ قراردیا۔
اور اس کی قوم کی طر ف سے بھی اسلام لانے کی بیعت لے لی۔
فوائد ومسائل:
1۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبہ کے کلمات اس قدر جامع اور پرتاثیر ہیں کہ ایک صاحب دانش وبینش،
ان کلمات کو سن کر ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی حقانیت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کا قائل ہوجاتا ہے۔
بشرط یہ کہ وہ ان کلمات کے معانی اور مطالب کو سمجھتا ہو اور صاحب فکر اور اہل نظرہو۔
2۔
ضماد کا تصور یہ تھا کہ جنون ودیوانگی آسیبی مرض ہے جو جنات کی چھوت سے پیدا ہوتا ہے اس لیے اس نےکہا:
(إِنِّي أَرْقِي مِنْ هَذِهِ الرِّيحِ)
”میں جنات کے اثر کو دم سے زائل کرتا ہوں“ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رغبت اور خواہش رکھتے ہوں تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دم کردیتا ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خطبہ کے کلمات سنائے تاکہ اسے پتہ چل سکے کہ اس افواہ میں حقیقت کتنی ہے اور افسانہ کتنا ہے۔
اس نے یہ کلمات سن کر تجزیہ وتحلیل کر کے بتا دیا کہ فن گفتگو کا کوئی ماہر اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچتا۔
ناموس البحر سمندر کی تہہ اور اس کی گہرائی کو کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں تو کمال درجہ کی فصاحت وبلاغت ہے۔
اس درجہ تک تو اس میدان کا کوئی شاہسوار نہیں پہنچ سکتا۔
3۔
جاہلیت کے دستور اوراصول کے مطابق کہ ہرقبیلہ اور ہر قوم اپنے سردار کے پیچھے چلتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضماد کے اسلام لانے کو پوری قوم کے اسلام لانے کا پیش خیمہ قراردیا۔
اور اس کی قوم کی طر ف سے بھی اسلام لانے کی بیعت لے لی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2008]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1893
خطبہ نکاح کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ میں) فرمایا: «الحمد لله نحمده ونستعينه ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله. أما بعد» ”بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1893]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (خطبہ میں) فرمایا: «الحمد لله نحمده ونستعينه ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله. أما بعد» ”بیشک تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، ہم اسی کی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ہم اسی سے مدد طلب کرتے ہیں، اسی سے مغفرت چاہتے ہیں، اور ہم اپنے نفسوں کی شرارتوں، اور اپنے اعمال کی برائیوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں، اللہ جسے راہ دکھائے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جیسے گمراہ کر دے اسے کو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1893]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اہم بات چیت اللہ تعالیٰ کی تعریف سے شروع کرنا مسنون ہے۔
(2)
ہر کام میں اللہ سے مدد مانگنا اور اسی سے توفیق طلب کرنا توحید کا حصہ ہے۔
(3)
انسان کا دل گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں برے کام سرزد ہوتے ہیں۔
بعض اوقات انسان ایک کام کو اپنے لیے بہتر سمجھ کر کرتا ہے لیکن اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
ان برے نتائج سے اللہ کی رحمت کے ساتھ ہی محفوظ رہا جا سکتا ہے لہذا اللہ ہی سے دعا کی جاتی ہے کہ نکاح کا معاملہ ہو یا دوسرے اہم معاملات اللہ اس کا انجام بہتر کرے۔
(5)
ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے لہٰذا اسی سے ہدایت اور رہنمائی طلب کی جاتی ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اہم بات چیت اللہ تعالیٰ کی تعریف سے شروع کرنا مسنون ہے۔
(2)
ہر کام میں اللہ سے مدد مانگنا اور اسی سے توفیق طلب کرنا توحید کا حصہ ہے۔
(3)
انسان کا دل گناہ کی طرف مائل ہوتا ہے جس کے نتیجے میں برے کام سرزد ہوتے ہیں۔
بعض اوقات انسان ایک کام کو اپنے لیے بہتر سمجھ کر کرتا ہے لیکن اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔
ان برے نتائج سے اللہ کی رحمت کے ساتھ ہی محفوظ رہا جا سکتا ہے لہذا اللہ ہی سے دعا کی جاتی ہے کہ نکاح کا معاملہ ہو یا دوسرے اہم معاملات اللہ اس کا انجام بہتر کرے۔
(5)
ہدایت اور گمراہی اللہ کے ہاتھ میں ہے لہٰذا اسی سے ہدایت اور رہنمائی طلب کی جاتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1893]
Sahih Muslim Hadith 2008 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن العباس القرشي