صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب الدعاء في الاستسقاء:
باب: نماز استسقاء کے موقع پر دعا مانگنا۔
ترقیم عبدالباقی: 897 ترقیم شاملہ: -- 2080
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَامَ إِلَيْهِ النَّاسُ فَصَاحُوا، وَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَاحْمَرَّ الشَّجَرُ وَهَلَكَتِ الْبَهَائِمُ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَفِيهِ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْأَعْلَى: " فَتَقَشَّعَتْ، عَنْ الْمَدِينَةِ فَجَعَلَتْ تُمْطِرُ حَوَالَيْهَا، وَمَا تُمْطِرُ بِالْمَدِينَةِ قَطْرَةً، فَنَظَرْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ وَإِنَّهَا لَفِي مِثْلِ الْإِكْلِيلِ ".
عبدالاعلیٰ بن حماد اور محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا: ہمیں معتمر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے ثابت بنانی سے اور انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ آپ کے سامنے کھڑے ہو گئے، (بات شروع کرنے والے بدو کے ساتھ دوسرے بھی شامل ہو گئے) وہ فریاد کرنے لگے اور کہنے لگے: اے اللہ کے نبی! بارش بند ہو گئی، درختوں (کے پتے سوکھ کر) سرخ ہو گئے اور مویشی ہلاک ہو گئے۔ (آگے مذکورہ بالا حدیث کے مانند) حدیث بیان کی۔ اس میں عبدالاعلیٰ کی روایت سے یہ (الفاظ) ہیں: مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور اس کے ارد گرد بارش برسانے لگے جبکہ مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برس رہا تھا میں نے مدینہ کو دیکھا وہ ایک طرح کے تاج کے اندر (بارش سے محفوظ) تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2080]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ کھڑے ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پکارنے لگے اور اےاللہ کے نبی! بارش بند ہوگئی، پودے سرخ ہو گئے یا درختوں کے پتے سوکھ گئے اور مویشی مرنے لگے۔۔۔ آگے مذکورہ بالا حدیث ہے اور عبدالاعلیٰ کی روایت میں ہے مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور اس کے ارد گرد بارش برسانے لگے اور مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برس رہاتھا میں نے مدینہ کو دیکھا وہ ایک دائرہ یا ٹوپی کی طرح اندر سے بارش سے محفوظ تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2080]
ترقیم فوادعبدالباقی: 897
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2080 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2080
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
قَحَطَ الْمَطَر:
بارش رک گئی۔
(2)
احْمَرَّ الشَّجَرُ:
بارش نہ ہونے سے پتے خشک ہو گئے یا ہریالی ختم ہو گئی۔
کیونکہ شجر کا اطلاق ہر قسم کی نباتات پر ہو جاتا ہے۔
(3)
تَقَشَّعَتْ:
بادل چھٹ گئے۔
مطلع صاف ہو گیا۔
(4)
اكليل:
پٹی،
کسی چیز کو ہر طرف سے گھیرنے والی۔
اس لیے ٹوپی اور تاج پر اس کا اطلاق ہو جاتا ہے۔
جس طرح سر پر تاج،
ہیٹ یا ٹوپی ہو تو وہ بارش سے محفوظ ہوتا ہے۔
اسی طرح مدینہ بارش سے محفوظ ہو گیا۔
مفردات الحدیث:
(1)
قَحَطَ الْمَطَر:
بارش رک گئی۔
(2)
احْمَرَّ الشَّجَرُ:
بارش نہ ہونے سے پتے خشک ہو گئے یا ہریالی ختم ہو گئی۔
کیونکہ شجر کا اطلاق ہر قسم کی نباتات پر ہو جاتا ہے۔
(3)
تَقَشَّعَتْ:
بادل چھٹ گئے۔
مطلع صاف ہو گیا۔
(4)
اكليل:
پٹی،
کسی چیز کو ہر طرف سے گھیرنے والی۔
اس لیے ٹوپی اور تاج پر اس کا اطلاق ہو جاتا ہے۔
جس طرح سر پر تاج،
ہیٹ یا ٹوپی ہو تو وہ بارش سے محفوظ ہوتا ہے۔
اسی طرح مدینہ بارش سے محفوظ ہو گیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2080]
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري