🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب ما عرض على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف من امر الجنة والنار:
باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 904 ترقیم شاملہ: -- 2101
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الصَّبَّاحِ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَرَأَيْتُ فِي النَّارِ امْرَأَةً حِمْيَرِيَّةً سَوْدَاءَ طَوِيلَةً "، وَلَمْ يَقُلْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ.
عبدالملک بن صباح نے ہشام دستوائی سے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی، مگر انہوں نے کہا: (آپ نے فرمایا:) میں نے آگ میں بلاد حمیر کی (رہنے والی) ایک سیاہ لمبی عورت دیکھی۔ اور انہوں نے من بنی اسرائیل (بنی اسرائیل کی) کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2101]
یہی روایت امام صاحب ایک دوسری سند سے بیان کرتے ہیں، ہاں یہ فرق اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے آگ میں ایک حمیری سیاہ لمبی عورت دیکھی۔ یہ نہیں کہا کہ (وہ اسرائیلی تھی۔) [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2101]
ترقیم فوادعبدالباقی: 904
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥هشام بن أبي عبد الله الدستوائي، أبو بكرثقة ثبت وقد رمي بالقدر
👤←👥عبد الملك بن الصباح الصنعاني، أبو محمد
Newعبد الملك بن الصباح الصنعاني ← هشام بن أبي عبد الله الدستوائي
صدوق حسن الحديث
👤←👥مالك بن عبد الواحد المسمعي، أبو غسان
Newمالك بن عبد الواحد المسمعي ← عبد الملك بن الصباح الصنعاني
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2101 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2101
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت اور دوزخ کے مختلف مناظر دکھائے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا ایک گچھا توڑنا چاہا۔
لیکن چونکہ جنت کی اشیاء دنیا میں نہیں آ سکتیں۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس ہو گیا کہ میں اس گچھا کو نہیں توڑ سکتا،
اور اس حدیث میں اس کو یوں بیان کیا گیا ہے میرا ہاتھ اس تک نہ پہنچ سکا اس لیے بعض احادیث کے الفاظ کو دیکھ کر یہ کہہ دینا کہ جنت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تصرف اور ملکیت میں دے دی گئی محض تحکم اور سینہ زوری ہے۔
(2)
جانوروں پر ظلم و ستم کرنا ان کو کھانے پینے سے محروم رکھنا عذاب کا باعث بن سکتا ہے۔
(3)
عمرو بن لحی عمرو بن مالک،
عمرو بن عامر خزاعی ایک ہی شخص ہے۔
(4)
کسوف شمس کا یہ واقعہ 13 اگست 630 بمطابق 28ربیع الاول 9 ہجری کو پیش آیا اور عرب میں اگست کے مہینہ میں گرمی شدید ہوتی ہے کیونکہ وہاں بارش بہت کم پڑتی ہے اور اسی حدیث سے ثابت ہوا کہ یہ نماز کسوف حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وفات پر نہیں پڑھی گئی کیونکہ وہ تو جنوری میں واقع ہوئی جو گرمی کا مہینہ نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2101]