صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب ما عرض على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف من امر الجنة والنار:
باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
ترقیم عبدالباقی: 905 ترقیم شاملہ: -- 2104
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَإِذَا النَّاسُ قِيَامٌ وَإِذَا هِىَ تُصَلِّى فَقُلْتُ مَا شَأْنُ النَّاسِ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ.
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے فاطمہ سے اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی تو اس وقت لوگ (نماز میں) کھڑے تھے اور وہ بھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا؟ اور (آگے) ہشام سے ابن نمیر کی (سابقہ) حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2104]
حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئی، لوگ نماز میں کھڑے تھے اور وہ بھی نماز پڑھ رہی تھیں، تو میں نے پوچھا، لوگوں کو کیا ہوا؟ پھر مذکورہ بالا روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2104]
ترقیم فوادعبدالباقی: 905
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة