صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب ما عرض على النبي صلى الله عليه وسلم في صلاة الكسوف من امر الجنة والنار:
باب: جنت اور جہنم میں سے کسوف کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا کچھ پیش کیا گیا؟
ترقیم عبدالباقی: 906 ترقیم شاملہ: -- 2107
وحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: " قِيَامًا طَوِيلًا يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ "، وَزَادَ: " فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ أَسَنَّ مِنِّي، وَإِلَى الْأُخْرَى هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي ".
یحییٰ اموی نے کہا: ہم سے ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے مانند حدیث بیان کی۔ (اس میں) انہوں نے کہا: (آپ نے) طویل قیام کیا، آپ قیام کرتے، پھر رکوع میں چلے جاتے۔ اور اس میں یہ اضافہ کیا: میں (بیٹھنے کا ارادہ کرتی تو) ایسی عورت کو دیکھنے لگتی جو مجھ سے بڑھ کر عمر رسیدہ ہوتی اور کسی دوسری کو دیکھتی جو مجھ سے زیادہ بیمار ہوتی (اور ان سے حوصلہ پا کر کھڑی رہتی)۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2107]
امام صاحب دوسرے استاد سے ابن جریج ہی کی سند سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں، اس میں ہے کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، قیام کرتے پھر رکوع میں چلے جاتے“ اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ ”میں (بیٹھنے کا ارادہ کرتی تو) ایک ایسی عورت پر نظر پڑتی جو مجھ سے عمر رحضرت ہے اور دوسری کو دیکھتی جو مجھ سے بڑھ کر بیمار ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2107]
ترقیم فوادعبدالباقی: 906
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد | ثقة | |
👤←👥يحيى بن سعيد الأموي، أبو أيوب يحيى بن سعيد الأموي ← ابن جريج المكي | ثقة | |
👤←👥سعيد بن يحيى الأموي، أبو عثمان سعيد بن يحيى الأموي ← يحيى بن سعيد الأموي | ثقة |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2107 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2107
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کبھی انسان کے لیے اس سے عمر رسیدہ یا کمزور انسان اس کے حوصلہ کو بڑھانے کاسبب بنتا ہے اور ان کو دیکھ کر انسان ہمت نہیں ہارتا اور کام میں مصروف رہتا ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کبھی انسان کے لیے اس سے عمر رسیدہ یا کمزور انسان اس کے حوصلہ کو بڑھانے کاسبب بنتا ہے اور ان کو دیکھ کر انسان ہمت نہیں ہارتا اور کام میں مصروف رہتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2107]
Sahih Muslim Hadith 2107 in Urdu
يحيى بن سعيد الأموي ← ابن جريج المكي